السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يستدل به على أن النبي صلى الله عليه وسلم في سوى ما ذكرنا ووصفنا من خصائصه من الحكم بين الأزواج فيما يحل منهن ويحرم بالحادث لا يخالف حلاله حلال باب: اس بات پر استدلال کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کی جن خصوصیات کا ذکر اور وصف بیان کیا ان کے علاوہ حادثاتی طور پر بیویوں کے درمیان حلال و حرام کے فیصلے میں آپ کا حلال کسی دوسرے حلال کے مخالف نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 13436
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: كَانَتِ ابْنَةُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ عِنْدَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَكَرِهَ مِنْهَا إِمَّا كِبَرًا وَإِمَّا غَيْرَ ذَلِكَ، فَأَرَادَ طَلَاقَهَا، فَقَالَتْ: لَا تُطَلِّقْنِي وَأَمْسِكْنِي وَاقْسِمْ لِي مَا شِئْتَ، فَاصْطَلَحَا عَلَى صُلْحٍ فَجَرَتِ السُّنَّةُ بِذَلِكَ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے انہیں بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے ناپسند کیا تو انہیں طلاق دینے کا ارادہ کیا۔ اس نے کہا: مجھے طلاق مت دیجیے اور میرے لیے جب چاہیے تقسیم فرما لیجیے۔ پھر آپ دونوں نے صلح کر لی، پھر یہ سنت جاری ہو گئی اور یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ [سورة النساء: 128]۔