السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يستدل به على أن النبي صلى الله عليه وسلم في سوى ما ذكرنا ووصفنا من خصائصه من الحكم بين الأزواج فيما يحل منهن ويحرم بالحادث لا يخالف حلاله حلال باب: اس بات پر استدلال کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کی جن خصوصیات کا ذکر اور وصف بیان کیا ان کے علاوہ حادثاتی طور پر بیویوں کے درمیان حلال و حرام کے فیصلے میں آپ کا حلال کسی دوسرے حلال کے مخالف نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 13433
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً فِي مِسْلَاخِهَا مِثْلَ سَوْدَةَ مِنِ امْرَأَةٍ فِيهَا حِدَّةٌ، فَلَمَّا كَبِرَتْ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ يَوْمَهَا وَيَوْمَ سَوْدَةَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مُخْتَصَرًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کوئی عورت ایسی نہیں دیکھی جس کے قالب میں ہونا (یعنی جس جیسا ہونا) مجھے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر پسند ہو، وہ ایسی عورت تھیں جن میں کچھ تیزی تھی۔ جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں اپنی باری عائشہ کو دیتی ہوں“ تو اللہ کے نبی ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے دو دن مقرر کرتے، ایک ان کا اپنا اور ایک سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا۔