السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: من يعطي من المؤلفة قلوبهم من سهم المصالح رجاء أن يسلم باب: مؤلفۃ القلوب میں سے کسی شخص کو مصالح کے حصے میں سے اس امید پر دینے کا بیان کہ وہ اسلام لے آئے گا
حدیث نمبر: 13184
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُنَاسٍ، مِنْ آلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا صَفْوَانُ هَلْ عِنْدَكَ سِلَاحٌ؟ " قَالَ: عَارِيَةً أَمْ غَصْبًا؟ قَالَ: " بَلْ عَارِيَةٌ " قَالَ فَأَعَارَهُ مَا بَيْنَ الثَّلَاثِينَ إِلَى الْأَرْبَعِينَ دِرْعًا، وَغَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، فَلَمَّا هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ جُمِعَتْ دُرُوعُ صَفْوَانَ، فَفُقِدَ مِنْهَا أَدْرَاعًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَفْوَانَ: " إِنَّا قَدْ فَقَدْنَا مِنْ أَدْرَاعِكَ أَدْرَاعًا، فَهَلْ نَغْرَمُ لَكَ؟ " قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ لِأَنَّ فِي قَلْبِي الْيَوْمَ مَا لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ ".حافظ ثناء اللہ
آلِ عبدالرحمن بن صفوان سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے صفوان! کیا تیرے پاس اسلحہ ہے؟“ صفوان نے کہا: «عَارِيَّةً» ”عاریتاً“ یا مستقل طور پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ادھار۔“ وہ فرماتے ہیں: میں نے ادھار میں چالیس اور تیس کے درمیان زرہیں نبی ﷺ کو دیں اور نبی ﷺ نے غزوہ حنین کیا، جب مشرکین کو شکست ہوئی تو صفوان کی زرہوں کو جمع کیا گیا، کچھ زرہیں گم ہو گئیں تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے صفوان! تیری زرہیں ہم سے گم ہو گئی ہیں، کیا ہم پر کوئی چٹی وغیرہ ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! نہیں، اس لیے کہ آج میرے دل میں وہ چیز نہیں جو اس دن تھی۔