حدیث نمبر: 13183
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالُوا: ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ بِتُرْبَتِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ، وَعُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيِّ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، وَزَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ، ثُمَّ أَحَدُ ⦗٢٩⦘ بَنِي نَبْهَانَ، فَغَضِبَتْ صَنَادِيدُ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ: يُعْطِي صَنَادِيدَ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لِأَتَأَلَّفَهُمْ "، فَجَاءَ رَجُلٌ كَثُّ اللِّحْيَةِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: اتَّقِ اللهَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَنْ يُطِعِ اللهَ إَنْ عَصَيْتُهُ يُأَمِّنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تُأَمِّنُونِي "، ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ، فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِي قَتْلِهِ يَرَوْنَ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إَنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ، كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَنَّادِ بْنِ السَّرِيِّ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ.
حافظ ثناء اللہ

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا نبی ﷺ کی طرف بھیجا۔ نبی ﷺ نے اس کو چار بندوں میں تقسیم کیا: اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن حصن فزاری، علقمہ بن علاثہ عامری اور زید الخیل طائی میں، تو قریش کے سردار ناراض ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نجد والوں کو دیتے ہیں لیکن ہم کو محروم کر دیا ہے! نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ میں نے اس لیے کیا ہے تاکہ ان کی دل جوئی ہو جائے۔“ ایک آدمی آیا جو گھنی داڑھی والا، پھولے ہوئے گال والا، دھنسی ہوئی آنکھوں والا، ابھری ہوئی پیشانی والا اور گنجے سر والا تھا۔ اس نے کہا: اے محمد ﷺ! اللہ سے ڈرو۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں اللہ کی نافرمانی کرتا ہوں تو اس کی اطاعت کون کرتا ہے؟ اس نے مجھے زمین پر امین بنایا ہے اور تم مجھے امین نہیں مانتے۔“ پھر وہ آدمی چلا گیا۔ قوم میں سے ایک آدمی نے اجازت طلب کی کہ میں اس کو قتل کر دوں (اور شاید وہ آدمی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے) تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اس کی نسل میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن یہ ان کی ہنسلیوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ اہل اسلام کو وہ قتل کریں گے اور بت پرستوں کو وہ چھوڑ دیں گے اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے ان لوگوں کو پا لیا تو میں ان کو قوم عاد کی طرح ضرور قتل کر دوں گا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13183
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري، مسلم90»