کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: مؤلفۃ القلوب میں سے کسی شخص کو مصالح کے حصے میں سے اس امید پر دینے کا بیان کہ وہ اسلام لے آئے گا
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُنَاسٍ، مِنْ آلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا صَفْوَانُ هَلْ عِنْدَكَ سِلَاحٌ؟ " قَالَ: عَارِيَةً أَمْ غَصْبًا؟ قَالَ: " بَلْ عَارِيَةٌ " قَالَ فَأَعَارَهُ مَا بَيْنَ الثَّلَاثِينَ إِلَى الْأَرْبَعِينَ دِرْعًا، وَغَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، فَلَمَّا هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ جُمِعَتْ دُرُوعُ صَفْوَانَ، فَفُقِدَ مِنْهَا أَدْرَاعًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَفْوَانَ: " إِنَّا قَدْ فَقَدْنَا مِنْ أَدْرَاعِكَ أَدْرَاعًا، فَهَلْ نَغْرَمُ لَكَ؟ " قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ لِأَنَّ فِي قَلْبِي الْيَوْمَ مَا لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ ".
حافظ ثناء اللہ
آلِ عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے صفوان! کیا تیرے پاس اسلحہ ہے؟“ صفوان نے کہا: «عَارِيَّةً» ”عاریتاً“ یا زبردستی (غصب کے طور پر)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ادھار۔“ وہ فرماتے ہیں: میں نے ادھار میں چالیس اور تیس کے درمیان زرہیں نبی ﷺ کو دیں اور نبی ﷺ نے غزوہ حنین کیا، جب مشرکین کو شکست ہوئی تو صفوان کی زرہوں کو جمع کیا گیا، کچھ زرہیں گم ہو گئیں تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے صفوان! تیری زرہیں ہم سے گم ہو گئی ہیں، کیا ہم پر کوئی چٹی وغیرہ ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! نہیں، اس لیے کہ آج میرے دل میں وہ چیز ہے جو اس دن نہیں تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13184
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ غِيَاثٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ أَظُنُّهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فِي أَدَاةٍ ذُكِرَتْ لَهُ عِنْدَهُ، فَسَأَلَهُ إِيَّاهَا، فَقَالَ صَفْوَانُ: أَيْنَ الْأَمَانُ؟ أَتَأْخُذُهَا غَصْبًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتَ أَنْ تُمْسِكَ أَدَاتَكَ فِامْسِكْهَا، وَإِنْ أَعَرْتَنِيهَا، فَهِيَ ضَامِنَةٌ عَلَيَّ حَتَّى نُؤَدِّيَ إِلَيْكَ "، فَقَالَ صَفْوَانُ: لَيْسَ بِهَذَا بَأْسٌ وَقَدْ أَعَرْتُكَهَا، فَأَعْطَاهُ يَوْمَئِذٍ زَعَمُوا مِائَةَ دِرْعٍ وَأَدَاتَهَا، وَكَانَ صَفْوَانُ ⦗٣٠⦘ كَثِيرَ السِّلَاحِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْفِنَا حَمْلَهَا " فَحَمَلَهَا صَفْوَانُ ثُمَّ ذَكَرَ الْقِصَّةَ فِي حَرْبِ حُنَيْنٍ قَالَ فِيهَا: وَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَقَالَ: أَبْشِرْ بِهَزِيمَةِ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: أَبَشَّرْتَنِي بِظُهُورِ الْأَعْرَابِ، فَوَاللهِ لَرَبٌّ مِنْ قُرَيْشٍ، أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَبٍّ مِنَ الْأَعْرَابِ، وَبَعَثَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ غُلَامًا لَهُ، فَقَالَ: اسْمَعْ لِمَنِ الشِّعَارُ، فَجَاءَهُ الْغُلَامُ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُمْ يَقُولُونَ يَا بَنِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَا بَنِي عَبْدِ اللهِ، يَا بَنِي عُبَيْدِ اللهِ، فَقَالَ: ظَهَرَ مُحَمَّدٌ وَكَانَ ذَلِكَ شِعَارُهُمْ فِي الْحَرْبِ " لَفْظُ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَحَدِيثِ عُرْوَةَ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفوان بن امیہ کی طرف کچھ ہتھیاروں کے بارے میں پیغام بھیجا جن کا آپ ﷺ کے سامنے ذکر کیا گیا تھا کہ وہ ان کے پاس ہیں، اور ان سے وہ مانگے، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: ضامن کہاں ہے؟ کیا آپ انہیں زبردستی لیں گے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو اپنا اسلحہ روک لے، اگر تو مجھے عاریتاً دے دے تو واپس لوٹانے تک میں اس کا ضامن ہوں۔“ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: کوئی حرج نہیں، میں آپ کو عاریتاً دیتا ہوں، اس نے اس دن آپ کو وہ (ہتھیار) دے دیے۔ بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ سو زرہیں اور ان کا ساز و سامان۔ صفوان رضی اللہ عنہ کے پاس بہت سا اسلحہ تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں اٹھا کر لے جانے میں ہماری کفایت کرو۔“ تو صفوان رضی اللہ عنہ نے انہیں اٹھایا، پھر غزوہ حنین کا ذکر کیا، جس میں ہے کہ قریش کا کوئی آدمی صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، اس نے کہا: تجھے محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کی ہزیمت مبارک ہو، صفوان رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تو مجھے دیہاتی عربوں کے غلبہ کی خوشخبری دیتا ہے؟ اللہ کی قسم! قریش کا کوئی سردار مجھے دیہاتیوں کے سردار سے زیادہ پسند ہے، صفوان رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو بھیجا اور کہا: سن شعار کون سا ہے؟ غلام آیا، اس نے کہا: میں نے انہیں «يَا بَنِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَا بَنِي عَبْدِ اللهِ، يَا بَنِي عُبَيْدِ اللهِ» ”اے بنو عبدالرحمن، اے بنو عبداللہ، اے بنو عبیداللہ“ کہتے ہوئے سنا، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: محمد ﷺ غالب آگئے۔ لڑائی میں یہ ان کا شعار تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13185
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَكْفَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: " غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْفَتْحِ، فَتْحِ مَكَّةَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ فِي رَمَضَانَ، فَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ، ثُمَّ مِائَةً، ثُمَّ مِائَةً قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَالَ: وَاللهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي وَإِنَّهُ أَبْغَضُ النَّاسِ إِلِيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلِيَّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے غزوہ فتح مکہ کیا اور آپ ﷺ رمضان کے مہینے میں مدینے سے نکلے تھے تو آپ ﷺ نے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دیے، پھر سو دیے، پھر سو دیے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! مجھے رسول اللہ ﷺ نے جو بھی دیا، وہ میرے نزدیک تمام لوگوں میں سے ناپسندیدہ تھے، آپ ﷺ ہمیشہ مجھے دیتے رہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ میرے نزدیک تمام لوگوں سے پسندیدہ ہو گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13186
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 2313»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا حُمَيْدٌ، ح وَأنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ قَالَ: مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ، فَأَمَرَ لَهُ بِغَنَمٍ بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: " يَا قَوْمُ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا أَعْطَى عَطِيَّةً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ النَّضْرِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بھی نبی ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ضرور دیتے تھے، ایک آدمی آیا، اس نے سوال کیا تو آپ ﷺ نے دو پہاڑوں کے درمیان جو بکریاں تھیں دینے کا حکم دیا اور جب وہ اپنی قوم کے پاس گیا تو اس نے کہا: ”اے میری قوم! مسلمان ہو جاؤ، محمد ﷺ اتنا دیتے ہیں کہ وہ تو فاقے سے بھی نہیں ڈرتے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13187
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 2312»
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ، ثنا الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، وَاللَّفْظُ، لَهُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَأَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ: " أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا فَوَاللهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ فَقَالَ أَنَسٌ: إنْ ⦗٣١⦘ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے دو پہاڑوں کے درمیان جو بکریاں تھیں مانگ لیں، آپ ﷺ نے اس کو دے دیں، وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”مسلمان ہو جاؤ، اللہ کی قسم! محمد ﷺ ایسا دیتے ہیں جیسے انہیں فقر کا کوئی ڈر نہیں“، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کوئی آدمی صرف دنیا کے حصول کے لیے اسلام قبول کرتا تھا، پھر وہ اسلام قبول کرتے ہی (تھوڑے عرصے میں) ایسا ہو جاتا کہ اسلام اسے دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہو جاتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13188