السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: من يعطي من المؤلفة قلوبهم من سهم المصالح رجاء أن يسلم باب: مؤلفۃ القلوب میں سے کسی شخص کو مصالح کے حصے میں سے اس امید پر دینے کا بیان کہ وہ اسلام لے آئے گا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ غِيَاثٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ أَظُنُّهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فِي أَدَاةٍ ذُكِرَتْ لَهُ عِنْدَهُ، فَسَأَلَهُ إِيَّاهَا، فَقَالَ صَفْوَانُ: أَيْنَ الْأَمَانُ؟ أَتَأْخُذُهَا غَصْبًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتَ أَنْ تُمْسِكَ أَدَاتَكَ فِامْسِكْهَا، وَإِنْ أَعَرْتَنِيهَا، فَهِيَ ضَامِنَةٌ عَلَيَّ حَتَّى نُؤَدِّيَ إِلَيْكَ "، فَقَالَ صَفْوَانُ: لَيْسَ بِهَذَا بَأْسٌ وَقَدْ أَعَرْتُكَهَا، فَأَعْطَاهُ يَوْمَئِذٍ زَعَمُوا مِائَةَ دِرْعٍ وَأَدَاتَهَا، وَكَانَ صَفْوَانُ ⦗٣٠⦘ كَثِيرَ السِّلَاحِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْفِنَا حَمْلَهَا " فَحَمَلَهَا صَفْوَانُ ثُمَّ ذَكَرَ الْقِصَّةَ فِي حَرْبِ حُنَيْنٍ قَالَ فِيهَا: وَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَقَالَ: أَبْشِرْ بِهَزِيمَةِ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: أَبَشَّرْتَنِي بِظُهُورِ الْأَعْرَابِ، فَوَاللهِ لَرَبٌّ مِنْ قُرَيْشٍ، أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَبٍّ مِنَ الْأَعْرَابِ، وَبَعَثَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ غُلَامًا لَهُ، فَقَالَ: اسْمَعْ لِمَنِ الشِّعَارُ، فَجَاءَهُ الْغُلَامُ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُمْ يَقُولُونَ يَا بَنِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَا بَنِي عَبْدِ اللهِ، يَا بَنِي عُبَيْدِ اللهِ، فَقَالَ: ظَهَرَ مُحَمَّدٌ وَكَانَ ذَلِكَ شِعَارُهُمْ فِي الْحَرْبِ " لَفْظُ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَحَدِيثِ عُرْوَةَ بِمَعْنَاهُ.زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی ہتھیار بھیجا، ان کے پاس اس کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے وہ مانگ لیا، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: ضامن کہاں ہے؟ کیا تم مستقل رکھو گے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو اپنا اسلحہ روک لے، اگر تو مجھے عاریتاً دے دے تو واپس لوٹانے تک میں اس کا ضامن ہوں۔“ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: کوئی حرج نہیں، میں آپ کو عاریتاً دیتا ہوں، اس نے اس دن آپ کو مال دے دیا۔ بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ سو زرہیں اور دوسرا اسلحہ۔ اس وقت صفوان رضی اللہ عنہ کے پاس بہت سا اسلحہ تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں ہماری ضرورت کے مطابق دے دو۔“ صفوان رضی اللہ عنہ نے دیا، پھر غزوہ حنین کا ذکر کیا، جس میں ہے کہ قریش کا کوئی آدمی صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، اس نے کہا: تجھے محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کی ہزیمت مبارک ہو، صفوان رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تو مجھے عرب کے غلبہ کی خبر دیتا ہے؟ اللہ کی قسم! قریش کا ولی مجھے عرب کے ولی سے زیادہ پسند ہے، صفوان رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو بھیجا اور کہا: سن شعار کون سا ہے؟ غلام آیا، اس نے کہا: میں نے انہیں «يَا بَنِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَا بَنِي عَبْدِ اللهِ، يَا بَنِي عُبَيْدِ اللهِ» ”اے بنو عبدالرحمن، اے بنو عبداللہ، اے بنو عبیداللہ“ کہتے ہوئے سنا، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: محمد ﷺ غالب آگئے۔ لڑائی میں یہ ان کا شعار تھا۔