کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مؤلفۃ القلوب (جن کی تالیف قلب مقصود ہو) میں سے اس شخص کا بیان جسے مال فے اور غنیمت کے خمس (پانچویں حصے) کے مصالح کے حصے میں سے تالیف قلب کے لیے دیا جائے اگرچہ وہ مسلمان ہو
حدیث نمبر: 13177
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدُ آبَاذِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ، فَكَانَ هَمُّهُ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ، فَأَحَاطَتْ بِهِ النَّاقَةُ، فَخَطِفَتْ شَجَرَةٌ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: " رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي أَتَخْشَوْنَ عَلَيَّ الْبُخْلَ لَوْ أَفَاءَ اللهُ عَلَيَّ نَعَمًا مِثْلَ تَمْرِ تِهَامَةَ لَقَسَمْتُهَا بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذَّابًا " ثُمَّ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ ذِرْوَةِ سَنَامِ بَعِيرِهِ، فَقَالَ: " مَالِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ، وَلَا مِثْلُ هَذِهِ، إِلَّا الْخُمُسَ، وَهُو مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ رُدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ، فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَشَنَارٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی ﷺ غزوہ حنین سے واپس لوٹے تو لوگوں نے آپ ﷺ سے سوال کرنے کا ارادہ کیا۔ انھوں نے (اس غرض سے) اونٹنی کو گھیر لیا، آپ کی چادر درخت نے اچک لی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری چادر مجھے لوٹا دو۔ کیا تم ڈرتے ہو کہ میں بخل کروں گا؟ اگر اللہ تعالیٰ مجھے تہامہ (جتنا) مالِ فے دیتا تو میں تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا اور تم مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہ پاتے۔“ پھر آپ ﷺ نے اونٹ کی کوہان سے اون لی اور فرمایا: ”مجھے کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مالِ فے دے اور میں روک لوں؟ اگر اس کی مثل بھی خمس ہو تو وہ بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا، تم دھاگا اور سوئی لوٹانا فرض سمجھو اس لیے کہ خیانت عار، آگ اور رسوائی ہے۔“
حدیث نمبر: 13178
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ⦗٢٧⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَالْحُمَيْدِيُّ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ جَلَّ وَعَزَّ عَلَيْكُمْ مِثْلُ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسَ وَهُوَ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو مال فئی اللہ نے تم کو دیا ہے وہ میرے لیے حلال نہیں ہے مگر اس کی مثل اور علاوہ ”خمس“ کے جو تم پر ہی لوٹایا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 13179
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ لِي مِنْ هَذَا الْفَيْءِ إِلَّا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَعْنِي بِالْخُمُسِ حَقُّهُ مِنَ الْخُمُسِ وَقَوْلُهُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ يَعْنِي: فِي مَصْلَحَتِكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 13180
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، أنبأ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ح، قَالَ: وَأنبأ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، ح قَالَ وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْحُمَيْدِيِّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ، وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: فَقَالَ عُمَرُ أَوْ غَيْرُهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ:.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا ابوسفیان بن حرب، سیدنا صفوان بن امیہ، سیدنا عیینہ بن حصن اور سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہم کو سو سو اونٹ دیے اور سیدنا عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ کو اس سے کم دیے، بعد میں انہیں بھی پورے سو دے دیے۔
حدیث نمبر: 13181
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَبَلَةَ، ثنا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ: ⦗٢٨⦘ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ، مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ يَوْمَ حُنَيْنٍ طَفِقَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قَوْمِهِ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، وَلَمْ يَدَعْ مَعَهُمْ أَحَدًا، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ فَقَالَ فُقَهَاءُ الْأَنْصَارِ: أَمَّا ذَوُو الرَّأْيِ مِنَّا يَا رَسُولَ اللهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا أُنَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي قُرَيْشًا، وَيَدَعُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأُعْطِي رَجُلًا حَدِيثَ عَهْدٍ بِكُفْرٍ، فَأَتَأَلَّفَهُمْ أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ، وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللهِ فَوَاللهِ مَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ "، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ لَهُمْ: " إِنَّكُمْ سَتَنْقَلِبُونَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوَا اللهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ " قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَلَمْ نَصْبِرْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو مالِ فے عطا کیا جو ہوازن قبیلے کے مال میں سے حنین والے دن حاصل ہوا تو آپ ﷺ نے اپنی قوم کے لوگوں کو سو سو اونٹ دینے شروع کر دیے تو انصار میں سے ایک آدمی نے کہا: ”اللہ پاک اپنے رسول ﷺ کو معاف کرے، آپ ﷺ قریش کو دیتے ہیں اور ہم کو چھوڑ دیا ہے، یعنی محروم کر دیا ہے اور ہماری تلواریں ابھی تک خون کے قطرے بہا رہی ہیں۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچ گئی، آپ ﷺ نے انصار والوں کو جمع کیا اور ان میں سے کسی ایک کو بھی پیچھے نہ چھوڑا۔ جب وہ جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا جو آپ ﷺ کو ان کی طرف سے بات پہنچی تھی تو انصار کے سمجھدار لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! جو ہم میں سے سمجھدار لوگ ہیں، انہوں نے یہ بات نہیں کی۔ یہ بات ان لوگوں نے کی ہے جو نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو معاف کرے، آپ ﷺ قریش کو دیتے ہیں اور ہم کو محروم کر دیا ہے؛ حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون بہہ رہا ہے۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں ان لوگوں کو دیتا ہوں جو کفر کو چھوڑ کر نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، تاکہ ان کی دل جوئی ہو، کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ گھر مال لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں کو اللہ کا رسول ﷺ لے کر جاؤ؟“ فرمایا: ”اللہ کی قسم! جو تم لے کر جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے کر جائیں گے۔“ پھر انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے نبی ﷺ!“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میرے بعد سخت آزمائش میں ڈالے جاؤ گے، پس تم بس صبر کرنا، یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو جا ملو، بیشک میں حوض پر ہوں گا۔“
حدیث نمبر: 13182
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ قَالَ: أُتِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالٌ، فَأَعْطَى قَوْمًا وَمَنَعَ آخَرِينَ، فَبَلَغَهُ أَنَّهُمْ عَتَبُوا، فَقَالَ: " إِنِّي أُعْطِي الرَّجُلَ وَأَدَعُ الرَّجُلَ، وَالَّذِي أَدَعُهُ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنَ الَّذِي أُعْطِيهِ، أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ، وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ " مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ، فَقَالَ عَمْرٌو: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُرَ النَّعَمِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس مال آیا تو آپ ﷺ نے اپنی قوم کو دیا اور دوسروں کو محروم کر دیا۔ آپ ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کسی آدمی کو دیتا ہوں اور کسی کو چھوڑ دیتا ہوں، جس کو میں محروم کرتا ہوں میں اس سے زیادہ محبت کرتا ہوں، اس کی نسبت جس کو میں دیتا ہوں، مال ان کو دیتا ہوں جن کے دل میں جزع و فزع، بے صبری ہوتی ہے اور محروم ان لوگوں کو کرتا ہوں جن کے دل کو اللہ پاک نے بے پروا کر دیا ہے“، ان میں سے سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بھی تھے، سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ نبی ﷺ کے یہ کلمات پیارے لگے تھے۔
حدیث نمبر: 13183
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالُوا: ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ بِتُرْبَتِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ، وَعُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيِّ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، وَزَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ، ثُمَّ أَحَدُ ⦗٢٩⦘ بَنِي نَبْهَانَ، فَغَضِبَتْ صَنَادِيدُ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ: يُعْطِي صَنَادِيدَ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لِأَتَأَلَّفَهُمْ "، فَجَاءَ رَجُلٌ كَثُّ اللِّحْيَةِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: اتَّقِ اللهَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَنْ يُطِعِ اللهَ إَنْ عَصَيْتُهُ يُأَمِّنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تُأَمِّنُونِي "، ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ، فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِي قَتْلِهِ يَرَوْنَ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إَنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ، كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَنَّادِ بْنِ السَّرِيِّ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا نبی ﷺ کی طرف بھیجا۔ نبی ﷺ نے اس کو چار بندوں میں تقسیم کیا: اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن حصن فزاری، علقمہ بن علاثہ عامری اور زید الخیل طائی میں، تو قریش کے سردار ناراض ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نجد والوں کو دیتے ہیں لیکن ہم کو محروم کر دیا ہے! نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ میں نے اس لیے کیا ہے تاکہ ان کی دل جوئی ہو جائے۔“ ایک آدمی آیا جو گھنی داڑھی والا، پھولے ہوئے گال والا، دھنسی ہوئی آنکھوں والا، ابھری ہوئی پیشانی والا اور گنجے سر والا تھا۔ اس نے کہا: اے محمد ﷺ! اللہ سے ڈرو۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں اللہ کی نافرمانی کرتا ہوں تو اس کی اطاعت کون کرتا ہے؟ اس نے مجھے زمین پر امین بنایا ہے اور تم مجھے امین نہیں مانتے۔“ پھر وہ آدمی چلا گیا۔ قوم میں سے ایک آدمی نے اجازت طلب کی کہ میں اس کو قتل کر دوں (اور شاید وہ آدمی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے) تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اس کی نسل میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن یہ ان کی ہنسلیوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ اہل اسلام کو وہ قتل کریں گے اور بت پرستوں کو وہ چھوڑ دیں گے اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے ان لوگوں کو پا لیا تو میں ان کو قوم عاد کی طرح ضرور قتل کر دوں گا۔“