حدیث نمبر: 13182
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ قَالَ: أُتِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالٌ، فَأَعْطَى قَوْمًا وَمَنَعَ آخَرِينَ، فَبَلَغَهُ أَنَّهُمْ عَتَبُوا، فَقَالَ: " إِنِّي أُعْطِي الرَّجُلَ وَأَدَعُ الرَّجُلَ، وَالَّذِي أَدَعُهُ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنَ الَّذِي أُعْطِيهِ، أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ، وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ " مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ، فَقَالَ عَمْرٌو: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُرَ النَّعَمِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس مال آیا تو آپ ﷺ نے اپنی قوم کو دیا اور دوسروں کو محروم کر دیا۔ آپ ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کسی آدمی کو دیتا ہوں اور کسی کو چھوڑ دیتا ہوں، جس کو میں محروم کرتا ہوں میں اس سے زیادہ محبت کرتا ہوں، اس کی نسبت جس کو میں دیتا ہوں، مال ان کو دیتا ہوں جن کے دل میں جزع و فزع، بے صبری ہوتی ہے اور محروم ان لوگوں کو کرتا ہوں جن کے دل کو اللہ پاک نے بے پروا کر دیا ہے“، ان میں سے سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بھی تھے، سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ نبی ﷺ کے یہ کلمات پیارے لگے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13182
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 923۔ 3145»