السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: من يعطى من المؤلفة قلوبهم من سهم المصالح خمس الفيء والغنيمة ما يتألف به وإن كان مسلما باب: مؤلفۃ القلوب (جن کی تالیف قلب مقصود ہو) میں سے اس شخص کا بیان جسے مال فے اور غنیمت کے خمس (پانچویں حصے) کے مصالح کے حصے میں سے تالیف قلب کے لیے دیا جائے اگرچہ وہ مسلمان ہو
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَبَلَةَ، ثنا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ: ⦗٢٨⦘ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ، مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ يَوْمَ حُنَيْنٍ طَفِقَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قَوْمِهِ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، وَلَمْ يَدَعْ مَعَهُمْ أَحَدًا، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ فَقَالَ فُقَهَاءُ الْأَنْصَارِ: أَمَّا ذَوُو الرَّأْيِ مِنَّا يَا رَسُولَ اللهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا أُنَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي قُرَيْشًا، وَيَدَعُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأُعْطِي رَجُلًا حَدِيثَ عَهْدٍ بِكُفْرٍ، فَأَتَأَلَّفَهُمْ أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ، وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللهِ فَوَاللهِ مَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ "، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ لَهُمْ: " إِنَّكُمْ سَتَنْقَلِبُونَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوَا اللهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ " قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَلَمْ نَصْبِرْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيِّ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو مالِ فے عطا کیا جو ہوازن قبیلے کے مال میں سے حنین والے دن حاصل ہوا تو آپ ﷺ نے اپنی قوم کے لوگوں کو سو سو اونٹ دینے شروع کر دیے تو انصار میں سے ایک آدمی نے کہا: ”اللہ پاک اپنے رسول ﷺ کو معاف کرے، آپ ﷺ قریش کو دیتے ہیں اور ہم کو چھوڑ دیا ہے، یعنی محروم کر دیا ہے اور ہماری تلواریں ابھی تک خون کے قطرے بہا رہی ہیں۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچ گئی، آپ ﷺ نے انصار والوں کو جمع کیا اور ان میں سے کسی ایک کو بھی پیچھے نہ چھوڑا۔ جب وہ جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا جو آپ ﷺ کو ان کی طرف سے بات پہنچی تھی تو انصار کے سمجھدار لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! جو ہم میں سے سمجھدار لوگ ہیں، انہوں نے یہ بات نہیں کی۔ یہ بات ان لوگوں نے کی ہے جو نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو معاف کرے، آپ ﷺ قریش کو دیتے ہیں اور ہم کو محروم کر دیا ہے؛ حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون بہہ رہا ہے۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں ان لوگوں کو دیتا ہوں جو کفر کو چھوڑ کر نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، تاکہ ان کی دل جوئی ہو، کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ گھر مال لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں کو اللہ کا رسول ﷺ لے کر جاؤ؟“ فرمایا: ”اللہ کی قسم! جو تم لے کر جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے کر جائیں گے۔“ پھر انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے نبی ﷺ!“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میرے بعد سخت آزمائش میں ڈالے جاؤ گے، پس تم بس صبر کرنا، یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو جا ملو، بیشک میں حوض پر ہوں گا۔“