حدیث نمبر: 13159
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى السُّنِّيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الشُّمَيْطِ، ثنا أَبِي وَالْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ زُهَيْرٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَخْبِرْنِي عَنِ الصَّدَقَةِ، أِيُّ مَالٍ هِيَ؟ قَالَ: هِيَ شَرُّ مَالٍ، إِنَّمَا هِيَ مَالٌ لِلْعُمْيَانِ وَالْعُرْجَانِ وَالْكُسْحَانِ وَالْيَتَامَى وَكُلٌّ مُنْقَطِعٌ بِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّ لِلْعَامِلِينَ عَلَيْهَا حَقًّا وَلِلْمُجَاهِدِينَ، فَقَالَ: لِلْعَامِلِينَ عَلَيْهَا بِقَدْرِ عَمَالَتِهِمْ، وَلِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ قَدْرُ حَاجَتِهِمْ، أَوْ قَالَ: حَالِهِمْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ " الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ ".
حافظ ثناء اللہ

زبیر عامری بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کہا کہ مجھے صدقے کے متعلق بتائیے، وہ کون سا مال ہے؟ انہوں نے کہا: «شَرُّ مَالٍ» ”یہ شر والا مال ہے“ (یعنی فتنہ و آزمائش ہے)۔ یہ مال اندھوں، لنگڑوں یا جس کے ہاتھ پاؤں حرکت نہ کرتے ہوں (معذور)، یتیموں اور جو ان تمام جیسا ہو ان کو دیا جائے۔ میں نے کہا: کیا عاملین اور مجاہدین کا صدقے میں کوئی حق ہے؟ تو انہوں نے کہا: عاملین کے لیے ان کی ڈیوٹی کی مقدار کے برابر ہے، مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے ان کی ضرورت کے مطابق ہے یا کہا: ان کی حالت کے مطابق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک صدقہ غنی کے لیے جائز نہیں اور نہ کسی صحت مند طاقت ور کے لیے جائز ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13159
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»