کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: فقیر یا مسکین کا ایسا روزگار یا پیشہ ہو جو اسے اور اس کے اہل و عیال کو غنی کر دے، تو اسے فقر اور مسکینی کی بنا پر کچھ نہیں دیا جائے گا
حدیث نمبر: 13155
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَأنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَا ثنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَامِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ "،.
حافظ ثناء اللہ
(الف) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی غنی اور طاقت ور صحت مند کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے“ (یعنی جو تندرست اور کمانے کی طاقت رکھتا ہے)۔
(ب) ابوداؤد طیالسی میں یہ الفاظ ہیں: ”اور نہ مضبوط قوی کے لیے۔“
(ب) ابوداؤد طیالسی میں یہ الفاظ ہیں: ”اور نہ مضبوط قوی کے لیے۔“
حدیث نمبر: 13156
رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ومُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، فَقَالَا فِي الْحَدِيثِ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ح وَأَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ،.
حافظ ثناء اللہ
سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ سے پچھلی روایت کی طرح الفاظ منقول ہیں۔
حدیث نمبر: 13157
وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، هَكَذَا مَرْفُوعًا وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ أَيْضًا فِي لَفْظِهِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ،.
حافظ ثناء اللہ
سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے، جس میں یہ الفاظ مختلف ہیں: ”«وَلَا لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ»“۔
حدیث نمبر: 13158
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ، رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ أَيْضًا فِي رَفْعِهِ وَلَفْظِهِ ⦗٢١⦘ وَفِي رِوَايَةِ مَنْ رَفَعَهُ كِفَايَةٌ، وَمَعْنَى الْمِرَّةِ الْقُوَّةُ وَأَصْلُهَا مِنْ شِدَّةِ فَتْلِ الْحَبْلِ.
حافظ ثناء اللہ
سعد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ کسی طاقت ور تندرست کے لیے جائز ہے کہ وہ صدقہ مانگے۔“ ایک مرفوع روایت میں یہ الفاظ ہیں: «کِفَايَةٌ» ”کفایت“، یعنی جس کے پاس کفایت کے لیے مال ہو۔
«الْمِرَّةُ» ”المرۃ“ کا معنی قوت ہے اور اس کی بنیاد رسی کو مضبوطی کے ساتھ بٹنے سے ہے۔
«الْمِرَّةُ» ”المرۃ“ کا معنی قوت ہے اور اس کی بنیاد رسی کو مضبوطی کے ساتھ بٹنے سے ہے۔
حدیث نمبر: 13159
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى السُّنِّيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الشُّمَيْطِ، ثنا أَبِي وَالْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ زُهَيْرٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَخْبِرْنِي عَنِ الصَّدَقَةِ، أِيُّ مَالٍ هِيَ؟ قَالَ: هِيَ شَرُّ مَالٍ، إِنَّمَا هِيَ مَالٌ لِلْعُمْيَانِ وَالْعُرْجَانِ وَالْكُسْحَانِ وَالْيَتَامَى وَكُلٌّ مُنْقَطِعٌ بِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّ لِلْعَامِلِينَ عَلَيْهَا حَقًّا وَلِلْمُجَاهِدِينَ، فَقَالَ: لِلْعَامِلِينَ عَلَيْهَا بِقَدْرِ عَمَالَتِهِمْ، وَلِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ قَدْرُ حَاجَتِهِمْ، أَوْ قَالَ: حَالِهِمْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ " الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ ".
حافظ ثناء اللہ
زبیر عامری بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کہا کہ مجھے صدقے کے متعلق بتائیے، وہ کون سا مال ہے؟ انہوں نے کہا: «شَرُّ مَالٍ» ”یہ شر والا مال ہے“ (یعنی فتنہ و آزمائش ہے)۔ یہ مال اندھوں، لنگڑوں یا جس کے ہاتھ پاؤں حرکت نہ کرتے ہوں (معذور)، یتیموں اور جو ان تمام جیسا ہو ان کو دیا جائے۔ میں نے کہا: کیا عاملین اور مجاہدین کا صدقے میں کوئی حق ہے؟ تو انہوں نے کہا: عاملین کے لیے ان کی ڈیوٹی کی مقدار کے برابر ہے، مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے ان کی ضرورت کے مطابق ہے یا کہا: ان کی حالت کے مطابق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک صدقہ غنی کے لیے جائز نہیں اور نہ کسی صحت مند طاقت ور کے لیے جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 13160
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: هُوَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَلَّهُ قَالَ: " لَا تَصْلُحُ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ "، وَرَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ عَنْ سُفْيَانَ بِإِسْنَادِهِ، وَقَالَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ کسی غنی اور صحت اور کمانے کی طاقت والے کے لیے جائز نہیں۔“
حدیث نمبر: 13161
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ " الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " وَرَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ مَرَّةً أُخْرَى، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
پچھلی روایت کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 13162
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالَا أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ح وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ قَالَا ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، عَنْ رَجُلَيْنِ قَالَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقْسِمُ نَعَمَ الصَّدَقَةِ، فَسَأَلْنَاهُ، فَصَعَّدَ فِينَا النَّظَرَ وَصَوَّبَ، فَقَالَ: " مَا شِئْتُمَا، فَلَا حَقَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ، وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ " وَفِي رِوَايَةِ الصَّفَّارِ: فَصَعَّدَ الْبَصَرَ وَصَوَّبَ.
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ دو آدمیوں سے روایت کرتے ہیں کہ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ صدقہ کی بکریاں تقسیم کر رہے تھے، تو ہم نے بھی آپ ﷺ سے سوال کیا، آپ ﷺ نے ہماری طرف نگاہ بلند کی اور تیز نظروں سے دیکھا اور کہا: ”جو تم چاہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں، لیکن اس میں کسی غنی کا حق نہیں اور نہ اس کا جس کے پاس کمانے کی طاقت ہے۔“