السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: الفقير أو المسكين له كسب أو حرفة تغنيه وعياله فلا يعطى بالفقر والمسكنة شيئا باب: فقیر یا مسکین کا ایسا روزگار یا پیشہ ہو جو اسے اور اس کے اہل و عیال کو غنی کر دے، تو اسے فقر اور مسکینی کی بنا پر کچھ نہیں دیا جائے گا
حدیث نمبر: 13158
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ، رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ أَيْضًا فِي رَفْعِهِ وَلَفْظِهِ ⦗٢١⦘ وَفِي رِوَايَةِ مَنْ رَفَعَهُ كِفَايَةٌ، وَمَعْنَى الْمِرَّةِ الْقُوَّةُ وَأَصْلُهَا مِنْ شِدَّةِ فَتْلِ الْحَبْلِ.حافظ ثناء اللہ
سعد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ کسی طاقت ور تندرست کے لیے جائز ہے کہ وہ صدقہ مانگے۔“ اسے ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اور ان پر بھی اس کے مرفوع ہونے اور اس کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے، اور جنہوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے ان کی روایت (دلیل کے لیے) کافی ہے۔
«الْمِرَّةُ» ”المرۃ“ کا معنی قوت ہے اور اس کی بنیاد رسی کو مضبوطی کے ساتھ بٹنے سے ہے۔