السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: الاختيار في التعجيل بقسمة مال الفيء إذا اجتمع باب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَخْتَرِيُّ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ أَبِي لِأَبِيكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: إِنَّ أَبِي قَالَ لِأَبِيكَ: " يَا أَبَا مُوسَى، أَيَسُرُّكَ أَنَّ إِسْلَامَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجِهَادَنَا مَعَهُ، وَعَمَلَنَا مَعَهُ، كُلَّهُ بَرَدَ لَنَا، وَإِنَّ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ، كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ؟ " قَالَ: فَقَالَ أَبُوكَ لِأَبِي: " وَاللهِ لَقَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْنَا، وَصُمْنَا، وَعَمِلْنَا خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَسْلَمَ عَلَى أَيْدِينَا أُنَاسٌ كَثِيرٌ، وَإِنَّا نَرْجُو بِذَلِكَ "، قَالَ أَبِي: " ⦗٥٨٤⦘ وَلَكِنِّي أَنَا وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ بَرَدَ لَنَا، وَأَنَّ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ "، فَقُلْتُ: وَاللهِ إِنَّ أَبَاكَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بِشْرٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ.ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کیا کہا؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے تمہارے باپ سے کہا: اے ابوموسیٰ! کیا تجھے پسند ہے کہ ہمارا اسلام رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو اور ہمارا جہاد آپ ﷺ کے ساتھ ہو اور ہمارا ہر عمل آپ ﷺ کے ساتھ ہو اور آپ کے بعد ہم جو بھی عمل کریں، ہم بس نجات پا جائیں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تمہارے باپ نے میرے باپ سے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے رسول اللہ ﷺ کے بعد جہاد کیا اور ہم نے نماز پڑھی اور ہم نے روزہ رکھا اور ہم نے بہت زیادہ اچھے اعمال کیے اور ہمارے ہاتھوں پر بہت زیادہ لوگ اسلام لائے اور ہم اس کی امید کرتے ہیں۔ میرے باپ نے کہا: لیکن اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ یہ ہمارا معاملہ آسان کر دے اور آپ ﷺ کے بعد جو ہم نے عمل کیا ہم بس اس کے ذریعے سے نجات پا جائیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارے والد میرے والد سے بہتر تھے۔