السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: الاختيار في التعجيل بقسمة مال الفيء إذا اجتمع باب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا صَلَّى صَلَاةً جَلَسَ، فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ كَلَّمَهُ، وَمَنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ دَخَلَ، فَصَلَّى ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَجْلِسْ، قَالَ: فَجِئْتُ فَقُلْتُ: يَا يَرْفَأُ، بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَكْوَى؟ قَالَ: " لَا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ "، قَالَ: فَجَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَلَسَ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ يَرْفَأُ فَقَالَ: قُمْ يَا ابْنَ عَفَّانَ، قُمْ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعِنْدَهُ صَبْرَةٌ مِنَ الْمَالِ، عَلَى كُلِّ صَبْرَةٍ مِنْهَا كَثْفٌ، فَقَالَ: " إِنِّي نَظَرْتُ فِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَوَجَدْتُكُمَا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَشِيرَةً، فَخُذَا هَذَا الْمَالَ فَاقْتَسِمَاهُ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ فَرُدَّاهُ ". فَأَمَّا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَحَثَا، وَأَمَّا أَنَا فَقُلْتُ: وَإِنْ نَقَصَ شَيْءٌ أَتْمَمْتَهُ لَنَا؟ قَالَ: " شِنْشِنَةٌ مِنْ أَخْزَمَ، أَمَا تَرَى هَذَا كَانَ عِنْدَ اللهِ، وَمُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ الْقَدَّ؟ " قَالَ: قُلْتُ: بَلَى وَاللهِ لَقَدْ كَانَ هَذَا عِنْدَ اللهِ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ الْقَدَّ، وَلَوْ فُتِحَ هَذَا عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ غَيْرَ الَّذِي تَصْنَعُ، قَالَ: فَكَأَنَّهُ فَزِعَ مِنْهُ، فَقَالَ: " وَمَا كَانَ يَصْنَعُ؟ " قُلْتُ: لَأَكَلَ وَأَطْعَمَنَا، قَالَ: فَنَشَجَ حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَضْلَاعُهُ وَقَالَ: " لَوَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا، لَا عَلَيَّ وَلَا لِيَ ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھاتے تو بیٹھ جاتے، جس کسی کو کوئی ضرورت ہوتی وہ آپ سے بات کرتا، پس ایک دن آپ نے نماز پڑھائی اور نہ بیٹھے، میں گیا میں نے کہا: اے یرفاء! کیا امیر المؤمنین بیمار تو نہیں ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“۔ پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے وہ بھی بیٹھ گئے، تھوڑی ہی دیر بعد یرفاء آگیا اس نے کہا: اے ابن عفان اور اے ابن عباس (رضی اللہ عنہما)! کھڑے ہوجاؤ۔ پس ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور آپ کے پاس مال کا ڈھیر تھا، ہر ڈھیر میں سہارا تھا۔ انہوں نے کہا: میں نے اہل مدینہ میں اکثر خاندان والا تم دونوں کو پایا ہے۔ پس یہ مال لے جاؤ اور تقسیم کر دو، اگر کوئی چیز بچ جائے تو اسے لوٹا دینا، پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شرمندہ ہوگئے، میں نے کہا: اگر کوئی چیز کم ہوئی تو دیں گے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عادت ہے برے اخلاق سے۔ کیا تم خیال کرتے ہو یہ اللہ کی طرف سے ہے اور محمد ﷺ اور ان کے اصحاب چمڑا کھاتے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ اللہ کی طرف سے ہے اور محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب چمڑا کھاتے تھے اور اگر یہ (مال) محمد ﷺ پر آتا تو وہ ایسا نہ کرتے جیسا تم کر رہے ہو، گویا وہ اس سے ڈر گئے اور کہا: وہ کیا کرتے؟ میں نے کہا: آپ ﷺ کھاتے اور ہمیں کھلاتے۔ وہ رونے لگ گئے، حتیٰ کہ ہچکی بندھ گئی اور کہا: میں چاہتا ہوں میں اس سے ایسے نکل جاؤں کہ میرے اوپر کوئی چیز نہ ہو۔