السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: من كره الإفراض عند تغير السلاطين، وصرفه عن المستحقين باب: اس شخص کا بیان جس نے حکمرانوں کے بدلنے پر وظائف مقرر کرنے اور انہیں مستحقین کے علاوہ دوسروں پر خرچ کرنے کو ناپسند کیا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ، ثنا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ: " بَشِّرِ الْكَنَّازِينَ بِكَيٍّ فِي ظُهُورِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ، وَبِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفِيَتِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ " قَالَ: ثُمَّ تَنَحَّى فَقَعَدَ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا أَبُو ذَرٍّ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُ قَبْلُ؟ قَالَ: مَا قُلْتُ إِلَّا شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ؟ قَالَ: " خُذْهُ؛ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً، فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، وَهُوَ فِي الْعَطَاءِ مَوْقُوفٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا.سیدنا احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں قریش کی جماعت میں تھا، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ گزرے اور وہ کہہ رہے تھے: ”خوشخبری دے دو خزانہ جمع کرنے والوں کو داغ کی، جو ان کے پیٹ پر لگائے جائیں گے تو ان کے پہلوؤں سے نکلیں گے اور ان کی گدیوں پر لگائے جائیں گے تو ان کی پیشانیوں سے نکلیں گے“، پھر وہ ایک کنارے پر بیٹھ گئے، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں، میں ان کے پاس کھڑا ہوا اور ان سے کہا: یہ کیا تھا جو میں نے ابھی آپ سے سنا جو آپ کہہ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: میں وہی کہہ رہا تھا جو میں نے نبی ﷺ سے سنا، میں نے کہا: آپ اس عطا کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس کو لیتے رہو اس میں مدد ہے، پھر جب یہ تمہارے دین کی قیمت ہو جائے تو اسے چھوڑ دینا۔