السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: الاختيار في التعجيل بقسمة مال الفيء إذا اجتمع باب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
حدیث نمبر: 13037
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا مِسْعَرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدٍ قَالَ: قَسَمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمًا مَالًا، فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا أَحْمَقَكُمْ لَوْ كَانَ هَذَا لِي مَا أَعْطَيْتُكُمْ دِرْهَمًا وَاحِدًا ".حافظ ثناء اللہ
سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن مال تقسیم کیا، وہ (لوگ) اس کی تعریف کرنے لگے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کتنے احمق ہو، اگر یہ میرا ہوتا تو میں تم کو ایک درہم بھی نہ دیتا۔