السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: الاختيار في التعجيل بقسمة مال الفيء إذا اجتمع باب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي بِخَطِّ يَدِي، عَنْ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِفَرْوَةِ كِسْرَى فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَفِي الْقَوْمِ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ: فَأَلْقَى إِلَيْهِ سِوَارَيْ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ فَجَعَلَهُمَا فِي يَدِهِ، فَبَلَغَا مَنْكِبَيْهِ، فَلَمَّا رَآهُمَا فِي يَدَيْ سُرَاقَةَ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ، سُوَارَيْ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ فِي يَدِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَعْرَابِيٍّ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ "، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُصِيبَ مَالًا فَيُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِكَ وَعَلَى عِبَادِكَ، وَزَوَيْتَ ذَلِكَ عَنْهُ نَظَرًا مِنْكَ لَهُ وَخِيَارًا "، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُصِيبَ مَالًا فَيُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِكَ وَعَلَى عِبَادِكَ، فَزَويْتَ ذَلِكَ عَنْهُ نَظَرًا مِنْكَ لَهُ وَخِيَارًا، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ يَكُونَ هَذَا مَكْرًا ⦗٥٨٣⦘ مِنْكَ بِعُمَرَ ". ثُمَّ قَالَ: تَلَا {أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ} [المؤمنون: ٥٦].حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس کسریٰ کے کنگن لائے گئے، وہ ہاتھوں میں رکھے گئے۔ قوم میں سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ پس ان کو کسریٰ بن ہرمز کے کنگن ڈال دیے تو ان دونوں کو اس کے ہاتھ میں ڈال دیا، وہ کندھوں تک پہنچ گئے۔ جب دونوں کو سراقہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیکھا تو کہا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ کسریٰ بن ہرمز کے کنگن سراقہ بن مالک بنی مدلج کے دیہاتی کے ہاتھوں میں ہیں۔ پھر کہا: اے اللہ! میں جانتا ہوں، تیرے رسول ﷺ پسند کرتے تھے کہ ان کو مال ملے اور وہ تیرے راستے میں خرچ کریں اور تیرے بندوں پر اور تو نے ان کو اس سے ہٹا دیا اور بہتری کی، اے اللہ! میں جانتا ہوں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ پسند کرتے تھے کہ ان کو مال ملے اور وہ تیرے راستے میں خرچ کریں، پس تو نے ان کو بھی ہٹا دیا اور بہتری کی۔ اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں کہ تیری طرف سے عمر کے ساتھ کوئی آزمائش نہ ہو۔ پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ * نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 55-56]۔