السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: الاختيار في التعجيل بقسمة مال الفيء إذا اجتمع باب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الشَّعِيرِيُّ، ثنا مَحْمَشُ بْنُ عِصَامٍ، أنبأ حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَ: " انْثُرُوهُ فِي الْمَسْجِدِ "، قَالَ: وَكَانَ أَكْثَرَ مَالٍ أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ، فَمَا كَانَ يَرَى أَحَدًا إِلَّا أَعْطَاهُ، إِذْ جَاءَهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطِنِي؛ فَإِنِّي فَادَيْتُ نَفْسِي وَفَادَيْتُ عَقِيلًا، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْ "، فَحَثَا فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ يُقِلُّهُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ، فَقَالَ: مُرْ بَعْضَهُمْ يَرْفَعْهُ إِلِيَّ، قَالَ: " لَا "، قَالَ: فَارْفَعْهُ أَنْتَ عَلَيَّ، قَالَ: " لَا "، فَنَثَرَ مِنْهُ ثُمَّ احْتَمَلَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى كَاهِلِهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ، ⦗٥٨٠⦘ قَالَ: فَمَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْهِ عَجَبًا مِنْ حِرْصِهِ، فَمَا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَمَّ مِنْهَا دِرْهَمٌ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بحرین سے مال لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے مسجد میں پھینک دو“ اور اکثر جب بھی آپ کے پاس مال لایا جاتا تھا، آپ ﷺ نماز کے لیے نکلتے تھے اور آپ اس کی طرف نہ دیکھتے تھے، جب نماز پوری ہو جاتی تو اس کے پاس آکر بیٹھ جاتے۔ آپ ﷺ کسی کو نہ دیکھتے مگر اسے دے دیتے تھے۔ جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی دیں، میں نے اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لے لو“، انہوں نے اپنا کپڑا پھیلایا، پھر اٹھانا چاہا لیکن نہ اٹھا سکے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کسی کو حکم دیجیے وہ اٹھوانے میں میری مدد کرے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ خود ہی اٹھوا دیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں (میں بھی نہیں اٹھواؤں گا)“ پھر انہوں نے اس میں سے کچھ سامان نکال دیا، پھر اس کو اٹھا کر اپنی کمر پر ڈال لیا اور چلے گئے۔ رسول اللہ ﷺ مسلسل انہیں اپنی نگاہ کے تعاقب میں دیکھتے رہے، یہاں تک کہ وہ چھپ گئے (نظر نہیں آرہے تھے) اور آپ ﷺ ان کی حرص سے تعجب کر رہے تھے، جب تک وہاں ایک درہم بھی باقی تھا، آپ ﷺ وہاں رہے۔