❮
❯
حدیث نمبر: 13028
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الشَّعِيرِيُّ، ثنا مَحْمَشُ بْنُ عِصَامٍ، أنبأ حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَ: " انْثُرُوهُ فِي الْمَسْجِدِ "، قَالَ: وَكَانَ أَكْثَرَ مَالٍ أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ، فَمَا كَانَ يَرَى أَحَدًا إِلَّا أَعْطَاهُ، إِذْ جَاءَهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطِنِي؛ فَإِنِّي فَادَيْتُ نَفْسِي وَفَادَيْتُ عَقِيلًا، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْ "، فَحَثَا فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ يُقِلُّهُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ، فَقَالَ: مُرْ بَعْضَهُمْ يَرْفَعْهُ إِلِيَّ، قَالَ: " لَا "، قَالَ: فَارْفَعْهُ أَنْتَ عَلَيَّ، قَالَ: " لَا "، فَنَثَرَ مِنْهُ ثُمَّ احْتَمَلَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى كَاهِلِهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ، ⦗٥٨٠⦘ قَالَ: فَمَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْهِ عَجَبًا مِنْ حِرْصِهِ، فَمَا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَمَّ مِنْهَا دِرْهَمٌ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بحرین سے مال لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے مسجد میں پھیلا دو“ اور یہ سب سے زیادہ مال تھا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، پھر رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے نکلے اور آپ نے اس کی طرف توجہ نہ کی، جب نماز پوری کر لی تو آ کر اس کے پاس بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ کسی کو نہ دیکھتے مگر اسے دے دیتے تھے۔ جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی دیں، میں نے اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لے لو“، انہوں نے اپنے کپڑے میں لپ بھر بھر کر ڈالا، پھر اٹھانا چاہا لیکن نہ اٹھا سکے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کسی کو حکم دیجیے وہ اٹھوانے میں میری مدد کرے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ خود ہی اٹھوا دیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں (میں بھی نہیں اٹھواؤں گا)“ پھر انہوں نے اس میں سے کچھ سامان نکال دیا، پھر اس کو اٹھا کر اپنی کمر پر ڈال لیا اور چلے گئے۔ رسول اللہ ﷺ مسلسل انہیں اپنی نگاہ کے تعاقب میں دیکھتے رہے، یہاں تک کہ وہ چھپ گئے (نظر نہیں آرہے تھے) اور آپ ﷺ ان کی حرص سے تعجب کر رہے تھے، جب تک وہاں ایک درہم بھی باقی تھا، آپ ﷺ وہاں رہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13028
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»