السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: الاختيار في التعجيل بقسمة مال الفيء إذا اجتمع باب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
حدیث نمبر: 13027
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ: ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُصَفَّى، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. زَادَ فِيهِ: فَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا، وَأَعْطَى الْآهِلَ حَظَّيْنِ، فَدَعَانِي فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ، وَكَانَ لِي أَهْلٌ، ثُمَّ دَعَا عَمَّارًا فَأَعْطَاهُ حَظًّا وَاحِدًا.حافظ ثناء اللہ
صفوان بن عمرو سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے اکیلے کو ایک حصہ دیا اور اہل والے کو دو حصے دیے، آپ ﷺ نے مجھے بلایا، مجھے دو حصے دیے اور میرے گھر والے بھی تھے، پھر عمار رضی اللہ عنہ کو بلایا، اسے ایک حصہ دیا۔