حدیث نمبر: 13029
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مَنْصُورٌ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ثنا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا يَوْمًا وَعُرْوَةُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: لَوْ رَأَيْتُمَا نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْضَةٍ مَرَضَهَا، وَكَانَتْ لَهُ عِنْدِي سِتَّةُ دَنَانِيرَ، قَالَ مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ: أَوْ سَبْعَةٌ، فَأَمَرَنِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُفَرِّقَهَا، فَشَغَلَنِي وَجَعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عَافَاهُ اللهُ، ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا فَقَالَ: " أَكُنْتِ فَرَّقْتِ السِّتَّةَ أَوِ السَّبْعَةَ؟ " قَالَتْ: لَا وَاللهِ، شَغَلَنِي وَجَعُكَ، قَالَتْ: فَدَعَا بِهَا، ثُمَّ فَرَّقَهَا فَقَالَ: " مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللهِ لَوْ لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهِيَ عِنْدَهُ ".
حافظ ثناء اللہ

ابو امامہ کہتے ہیں کہ میں اور عروہ ایک دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا: اگر تم دونوں نبی ﷺ کو مرض میں دیکھ لیتے۔ اس وقت میرے پاس چھ دینار تھے۔ موسیٰ بن جبیر کہتے ہیں: یا سات کہا۔ مجھے نبی ﷺ نے حکم دیا کہ ان کو تقسیم کر دوں، پس مجھے رسول اللہ ﷺ کی بیماری نے مشغول کر دیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو آرام دیا، آپ ﷺ نے مجھ سے ان کے بارے میں سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے چھ یا سات دینار تقسیم کر دیے ہیں؟“ میں نے کہا: نہیں، مجھے آپ کی بیماری نے مشغول کر دیا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے وہ منگوائے، پھر ان کو تقسیم کر دیا اور فرمایا: ”نبی ﷺ کا کیا گمان ہے کہ وہ اللہ سے ملیں اور ان کے پاس وہ ہوں؟“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13029
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ احمد 24212»