السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما يكون للوالي الأعظم ووالي الإقليم من مال الله، وما جاء في رزق القضاة وأجر سائر الولاة باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13014
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ، قَالَ: " خُذْ مَا أُعْطِيتَ؛ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَمَّلَنِي " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ اللَّيْثِ، وَقَالَ: عَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ.حافظ ثناء اللہ
ابن ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ پر عامل بنایا، جب میں اپنے کام سے فارغ ہوا تو میں نے کہا: میں اللہ کے لیے عامل بنا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تجھے دیا جا رہا ہے وہ لے لے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں کام کیا تھا، آپ نے مجھے عامل مقرر کیا تھا۔