السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما يكون للوالي الأعظم ووالي الإقليم من مال الله، وما جاء في رزق القضاة وأجر سائر الولاة باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَكَّانِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ كَرِهْتَهَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِالْخَيْرِ، وَأُرِيدُ أَنْ تَكُونَ عُمَالَتِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَلَا تَفْعَلْ؛ فَإِنِّي قَدْ كُنْتُ أَرَدْتُ ذَلِكَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً ⦗٥٧٧⦘ مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.سیدنا عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی خلافت میں آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ تم لوگوں کے کچھ کاموں کے والی بنتے ہو، پھر جب تمہیں اجرت دی جاتی ہے تو تم اسے ناپسند کرتے ہو؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس سے تمہارا کیا ارادہ ہے؟“ میں نے کہا: ”میرے پاس گھوڑے ہیں، غلام ہیں اور میں اچھی حالت میں ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری اجرت مسلمانوں پر صدقہ ہو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ایسا نہ کرو، میں نے بھی یہ ارادہ کیا تھا، رسول اللہ ﷺ مجھے عطیہ دیتے تو میں عرض کرتا: اسے دے دیجیے جو مجھ سے زیادہ اس کا محتاج ہو۔ حتیٰ کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کیا: اسے دے دیجیے جو مجھ سے زیادہ اس کا محتاج ہو۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’اسے لے لو اور اپنے مال میں شامل کر لو یا اسے صدقہ کر دو، اور اس مال میں سے جو تمہارے پاس اس طرح آئے کہ نہ تمہیں اس کی لالچ ہو اور نہ تم نے اس کا سوال کیا ہو تو اسے لے لو، اور جو اس طرح نہ آئے تو اپنے نفس کو اس کے پیچھے نہ لگاؤ۔‘“