السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما يكون للوالي الأعظم ووالي الإقليم من مال الله، وما جاء في رزق القضاة وأجر سائر الولاة باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَامِرُ بْنُ شَقِيقٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ: " اسْتَعْمَلَنِي ابْنُ زِيَادٍ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ، فَأَتَانِي رَجُلٌ مِنْهُ بَصَكٍّ فِيهِ: أَعْطِ صَاحِبَ الْمَطْبَخِ ثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَقُلْتُ لَهُ: مَكَانَكَ، وَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ زِيَادٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ عَلَى الْقَضَاءِ وَبَيْتِ الْمَالِ، وَعُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ عَلَى مَا يَسْقِي الْفُرَاتُ، وَعَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ عَلَى الصَّلَاةِ وَالْجُنْدِ، وَرَزَقَهُمْ كُلَّ يَوْمٍ شَاةً، فَجَعَلَ نِصْفَهَا وَسَقَطَهَا وَأَكَارِعَهَا لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ؛ لِأَنَّهُ كَانَ عَلَى الصَّلَاةِ وَالْجُنْدِ، وَجَعَلَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رُبُعَهَا، وَجَعَلَ لِعُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رُبُعَهَا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مَالًا يُؤْخَذُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ شَاةً، إِنَّ ذَلِكَ فِيهِ لَسَرِيعٌ قَالَ ابْنُ زِيَادٍ: ضَعِ الْمِفْتَاحَ وَاذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ ".ابووائل کہتے ہیں: مجھے ابنِ زیاد نے بیت المال پر امیر مقرر کر دیا۔ (بیت المال کی طرف سے) ایک آدمی میرے پاس ایک تحریر لے کر آیا جس میں لکھا تھا: («صَاحِبُ الْمَطْبَخِ» ”باورچی خانے کے نگران“) کو آٹھ سو درہم دے دو۔ میں نے اس سے کہا: اپنی جگہ ٹھہرو۔ پھر میں ابنِ زیاد کے پاس گیا اور اسے بتایا۔ پھر میں نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو قضا اور بیت المال پر نگران بنایا اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو فرات سے سیراب ہونے والی زمین پر نگران مقرر کیا اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو نماز اور لشکروں پر مقرر کیا اور ہر روز ان کو ایک بکری دی؛ اس کا نصف، اس کی اوجھڑی اور پائے عمار رضی اللہ عنہ کو، کیونکہ وہ نماز اور لشکر پر مقرر تھے، عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس کا چوتھائی اور عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی اس کا چوتھائی دیا۔ پھر کہا: جس مال سے ہر روز ایک بکری لی جائے، وہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ ابنِ زیاد نے کہا: چابی رکھ دو اور جہاں مرضی جاؤ۔