السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قسم ذلك على قدر الكفاية باب: اس (مالِ فے) کو ضرورت و کفایت کے مطابق تقسیم کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12972
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْفَيْءِ فَقَالَ: " مَا أَنَا أَحَقُّ بِهَذَا الْفَيْءِ مِنْكُمْ، وَمَا أَحَدٌ مِنَّا بِأَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ، إِلَّا أَنَّا عَلَى مَنَازِلِنَا مِنْ كِتَابِ اللهِ وَقِسْمَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالرَّجُلُ وَقِدَمُهُ، وَالرَّجُلُ وَبَلَاؤُهُ، وَالرَّجُلُ وَعِيَالُهُ، وَالرَّجُلُ وَحَاجَتُهُ ".حافظ ثناء اللہ
مالک بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے مال فئی کا ذکر کیا، کہا: ”میں اس مال کا تم سے زیادہ حق دار نہیں ہوں اور ہم میں سے کوئی بھی کسی دوسرے سے زیادہ اس کا حق دار نہیں ہے، مگر یہ کہ ہم کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی تقسیم کے مطابق اپنے اپنے مراتب پر ہیں۔ آدمی اور اس کی (اسلام میں) سبقت، آدمی اور اس کی آزمائش (و خدمات)، آدمی اور اس کے گھر والے اور آدمی اور اس کی حاجت۔“