❮
❯
حدیث نمبر: 12971
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ مَرْوَانَ قَالَ لِكُرَيْبِ بْنِ أَبْرَهَةَ: أَحَضَرْتَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْجَابِيَةِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَنْ يُحَدِّثُنَا عَنْهَا؟ قَالَ كُرَيْبٌ: إِنْ بَعَثْتَ إِلَى سُفْيَانَ بْنِ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ حَدَّثَكَ عَنْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: حَدِّثْنِي عَنْ خُطْبَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَابِيَةِ، قَالَ سُفْيَانُ: إِنَّهُ لَمَّا اجْتَمَعَ الْفَيْءُ أَرْسَلَ أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَقْدَمَ بِنَفْسِهِ، فَقَدِمَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فإِنَّ هَذَا الْمَالَ نَقْسِمُهُ عَلَى مَنْ أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِ بِالْعَدْلِ، إِلَّا هَذَيْنِ الْحَيَّيْنِ مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ، فَلَا حَقَّ لَهُمْ فِيهِ ". فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو حُدَيْرٍ الْأَجْذَمِيُّ فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللهَ يَا عُمَرُ فِي الْعَدْلِ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْعَدْلَ أُرِيدُ، أَنْ أَجْعَلَ أَقْوَامًا مَا أَنْفَقُوا فِي الظَّهْرِ، وَشَدُّوا الْغَرَضَ، وَسَاحُوا فِي الْبِلَادِ، مِثْلَ قَوْمٍ مُقِيمِينَ فِي بِلَادِهِمْ، وَلَوْ أَنَّ الْهِجْرَةَ كَانَتْ بِصَنْعَاءَ أَوْ بِعَدَنَ مَا هَاجَرَ إِلَيْهَا مِنْ لَخْمٍ وَلَا جُذَامٍ أَحَدٌ "، فَقَامَ أَبُو حُدَيْرٍ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ وَضَعَنَا مِنْ بِلَادِهِ حَيْثُ يَشَاءُ، وَسَاقَ إِلَيْنَا الْهِجْرَةَ فِي بِلَادِنَا، فَقَبِلْنَاهَا وَنَصَرْنَاهَا، أَفَذَلِكَ يَقْطَعُ حَقَّنَا يَا عُمَرُ؟ ثُمَّ قَالَ: " لَكُمْ حَقُّكُمْ مَعَ الْمُسْلِمِينَ "، ثُمَّ قَسَمَ، فَكَانَ لِلرَّجُلِ نِصْفُ دِينَارٍ، فَإِذَا كَانَتْ مَعَهُ امْرَأَتُهُ أَعْطَاهُ دِينَارًا، ثُمَّ دَعَا ابْنَ قَاطُورَا صَاحِبَ الْأَرْضِ فَقَالَ: " أَخْبِرْنِي مَا يَكْفِي الرَّجُلَ مِنَ الْقُوتِ فِي الشَّهْرِ وَالْيَوْمِ "، فَأَتَى بِالْمُدْيِ وَالْقِسْطِ فَقَالَ: يَكْفِيهِ هَذَا؛ الْمُدْيَانِ فِي الشَّهْرِ، وَقِسْطُ زَيْتٍ، وَقِسْطُ خَلٍّ، فَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمُدْيَيْنِ مِنْ قَمْحٍ فَطُحِنَا، ثُمَّ عُجِنَا ثُمَّ خُبِزَا، ثُمَّ أَدَمَهُمَا بِقِسْطَيْنِ زَيْتًا، ثُمَّ أَجْلَسَ عَلَيْهِمَا ثَلَاثِينَ رَجُلًا، فَكَانَ كَفَافَ شِبْعِهِمْ، ثُمَّ أَخَذَ عُمَرُ الْمُدْيَ بِيَمِينِهِ وَالْقِسْطَ بِيَسَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُنْقِصَهُمَا بَعْدِي، اللهُمَّ فَمَنْ نَقَصَهُمَا فَانْقُصْ مِنْ عُمْرِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

عبدالعزیز بن مروان نے کریب بن ابرہہ سے کہا: ”کیا تم جابیہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ (عبدالعزیز نے) کہا: ”ہمیں اس بارے میں کون بیان کرے گا؟“ کریب نے کہا: ”اگر آپ سفیان بن وہب خولانی کو بلائیں تو وہ بیان کر سکتے ہیں۔“ انہوں نے انہیں بلایا اور کہا: ”مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا جابیہ والا خطبہ بیان کرو۔“ سفیان نے کہا: جب مالِ فئی جمع ہوا تو اجناد (لشکروں) کے امراء نے عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ خود تشریف لائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ آئے، اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تعریف کی۔ پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ!» ”بیشک یہ مال ہم عدل کے ساتھ تقسیم کریں گے، مگر یہ دو قبیلے لخم اور جذام، ان کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔“ ابوحدیر اجذمی کھڑے ہوئے اور کہا: ”اے عمر رضی اللہ عنہ! میں آپ کو عدل کے بارے میں اللہ کی قسم دیتا ہوں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں عدل ہی چاہتا ہوں؛ کیا میں ان لوگوں کو جنہوں نے سواریوں پر خرچ کیا، کجاوے کسے اور شہروں میں سفر کیے، ان لوگوں کی طرح کر دوں جو اپنے شہروں میں مقیم ہیں؟ اور اگر ہجرت صنعاء یا عدن کی طرف ہوتی تو لخم اور جذام میں سے کوئی بھی اس کی طرف ہجرت نہ کرتا۔“ ابوحدیر کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے ملک میں جہاں چاہا رکھا اور لوگوں کو ہماری طرف ہجرت کرا دی، ہم نے اسے قبول کیا اور ان کی مدد کی۔ اے عمر! کیا اس وجہ سے ہمارا حق ختم ہو گیا؟“ پھر (عمر رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: ”تمہارے لیے تمہارا حق مسلمانوں کے ساتھ ہے،“ پھر (مال) تقسیم کیا۔ پس ایک آدمی کے لیے نصف دینار تھا، اور جب اس کے ساتھ اس کی بیوی ہوتی تو اسے ایک دینار دیتے تھے۔ پھر انہوں نے زمین کے مالک ابن قاطورا کو بلایا اور کہا: ”مجھے بتاؤ! مہینہ اور دن میں آدمی کو کتنا کھانا کافی ہوتا ہے؟“ وہ مُدی اور قِسط (دو پیمانے) لے کر آیا اور اس نے کہا: ”اسے یہ کافی ہے: مہینے میں دو مُدی، ایک قِسط زیتون کا تیل اور ایک قِسط سرکہ۔“ پس عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا، تو دو مُدی گندم کا آٹا بنایا گیا، پھر اسے گوندھا گیا اور روٹی پکائی گئی۔ پھر دو قِسط زیتون کا سالن بنایا گیا۔ پھر اس پر تیس آدمیوں کو بٹھایا گیا، پس وہ ان کی بھوک مٹانے کے لیے کافی ہو گیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے مُدی اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا اور بائیں ہاتھ میں قِسط پکڑا، پھر (دعا کرتے ہوئے) کہا: «اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَنْقُصَهُمَا بَعْدِي، اللَّهُمَّ مَنْ نَقَصَهُمَا فَانْقُصْ عُمُرَهُ» ”اے اللہ! کسی کے لیے حلال نہیں کہ ان دونوں میں سے کسی کو میرے بعد کم کرے۔ اے اللہ! جو انہیں کم کرے تو اس کی عمر کم کر دینا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12971
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»