السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قسم ذلك على قدر الكفاية باب: اس (مالِ فے) کو ضرورت و کفایت کے مطابق تقسیم کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12973
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كَمْ تَرَى الرَّجُلَ يَكْفِيهِ مِنْ عَطَائِهِ؟ " قَالَ: قُلْتُ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: " لَئِنْ بَقِيتُ لَأَجْعَلَنَّ عَطَاءَ الرَّجُلِ أَرْبَعَةَ آلَافٍ؛ أَلْفٌ لِسِلَاحِهِ، وَأَلْفٌ لِنَفَقَتِهِ، وَأَلْفٌ يُخَلِّفُهَا فِي أَهْلِهِ، وَأَلْفٌ لِكَذَا "، أَحْسِبُهُ قَالَ: " لِفَرَسِهِ ".حافظ ثناء اللہ
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آدمی کو کتنا دیں کہ اس کے لیے کافی ہو؟ میں نے کہا: اتنا اتنا۔ فرمایا: اگر میں زندہ رہا تو میں آدمی کو دینے کے لیے چار ہزار رکھوں گا اور ایک ہزار اس کے اسلحے کے لیے اور ایک ہزار اس کے خرچے کے لیے اور ایک ہزار اس کے پیچھے اس کے اہل کے لیے اور ایک ہزار اس کے گھوڑے کے لیے۔