السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قسم ذلك على قدر الكفاية باب: اس (مالِ فے) کو ضرورت و کفایت کے مطابق تقسیم کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12970
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُصَفَّى، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَأَعْطَى الْأَعْزَبَ حَظًّا زَادَ: فَدُعِينَا، وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارٍ، فَدُعِيتُ، فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ وَكَانَ لِي أَهْلٌ، ثُمَّ دُعِيَ بَعْدِي عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأُعْطِيَ حَظًّا وَاحِدًا.حافظ ثناء اللہ
صفوان بن عمرو سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے اکیلے کو ایک حصہ دیا، پس ہمیں بھی بلایا گیا اور مجھے عمار رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا گیا، مجھے آپ ﷺ نے دو حصے دیے اور میرے اہل بھی تھے، پھر میرے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا، پس انہیں ایک حصہ دیا گیا۔