السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
جماع أبواب تفريق الخمس -- باب: سهم الله وسهم رسوله صلى الله عليه وسلم من خمس الفيء والغنيمة باب: خمس (پانچواں حصہ) تقسیم کرنے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ فے اور مالِ غنیمت کے خمس میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حصے کا بیان
َفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَا أَفَاءَ، قَسَمَ فِي النَّاسِ فِي الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ، وَلَمْ يَقْسِمْ أَوْ لَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا، فَكَأَنَّهُ وَجَدَ إِذْ لَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ، أَوْ كَأَنَّهُمْ وَجَدُوا إِذْ لَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، فَخَطَبَهُمْ فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللهُ بِي؟ وَكُنْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَأَلَّفَكُمُ اللهُ بِي؟ وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللهُ بِي؟ " ⦗٥٥٢⦘ قَالَ: كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، قَالَ: " مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُجِيبُوا؟ "، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، قَالَ: " لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ جِئْتَنَا كَذَا وَكَذَا، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللهِ إِلَى رِحَالِكُمْ؟ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا، الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ، إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً؛ فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى.عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب اللہ نے اپنے رسول کو حنین کے دن مال لوٹایا تو رسول اللہ ﷺ نے تالیفِ قلب کے لیے لوگوں میں تقسیم کیا اور انصار کو کچھ نہ دیا۔ ان کو اس کا ملال ہوا کہ لوگوں کو جو دیا ہے، ہمیں نہیں دیا، آپ ﷺ نے ان کو خطبہ دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے انصار کی جماعت! کیا میں نے تم کو گمراہ نہ پایا تھا؟ پس اللہ نے تم کو میری وجہ سے ہدایت دی اور تم علیحدہ علیحدہ تھے، پس اللہ نے تم کو میری وجہ سے ملا دیا اور تمہیں غنی کر دیا۔“ وہ آپ ﷺ کے ایک ایک جملے پر کہتے تھے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سب سے زیادہ احسان مند ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان باتوں کا جواب دینے میں تمہیں کیا چیز مانع رہی؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہم احسان مند ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہتے تو اس طرح بھی کہہ سکتے تھے، کیا تم راضی نہیں کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم رسول اللہ ﷺ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ؟ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک آدمی بن جاتا۔ اگر لوگ کسی گھاٹی یا وادی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار اس کپڑے کی طرح ہیں جو ہمیشہ جسم کے ساتھ رہتا ہے اور دوسرے لوگ اوپر والے کپڑے کی طرح ہیں۔ تم کو میرے بعد دوسروں سے پیچھے چھوڑ دیا جائے گا، پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھے حوض پر مل لینا۔“