حدیث نمبر: 12943
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، ثنا الْوَلِيدُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ الْأَسْوَدَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبْسَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَغْنَمِ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ ثُمَّ قَالَ: " وَلَا يَحِلُّ مِنْ غَنَائِمِكُمْ مِثْلُ هَذَا، إِلَّا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ مَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَاضِيًا، وَصَلَّى اللهُ وَمَلَائِكَتُهُ عَلَيْهِ، فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ عِنْدَنَا فِي سَهْمِهِ، فَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يُرَدُّ عَلَى السُّهْمَانِ الَّتِي ذَكَرَهَا اللهُ مَعَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يَضَعُهُ الْإِمَامُ حَيْثُ رَأَى عَلَى الِاجْتِهَادِ لِلْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يَضَعُهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ، وَالَّذِي أَخْتَارُ أَنْ يَضَعَهُ الْإِمَامُ فِي كُلِّ أَمْرٍ حُصِّنَ بِهِ الْإِسْلَامُ وَأَهْلُهُ، مِنْ سَدِّ ثَغْرٍ، أَوْ إِعْدَادِ كُرَاعٍ أَوْ سِلَاحٍ، أَوْ إِعْطَاءِ أَهْلِ الْبَلَاءِ فِي الْإِسْلَامِ نَفْلًا عِنْدَ الْحَرْبِ وَغَيْرِ الْحَرْبِ إِعْدَادًا لِلزِّيَادَةِ فِي تَعْزِيرِ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ، عَلَى مَا صَنَعَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَى الْمُؤَلَّفَةَ، وَنَفَّلَ فِي الْحَرْبِ، وَأَعْطَى عَامَ خَيْبَرَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَهْلَ حَاجَةٍ وَفَضْلٍ، وَأَكْثَرُهُمْ أَهْلُ فَاقَةٍ، نَرَى ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ كُلَّهُ مِنْ سَهْمِهِ.
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن عتبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں غنیمت کے اونٹ کے پاس نماز پڑھائی، آپ ﷺ نے سلام کر کے اونٹ کے پہلو سے بال پکڑے، پھر فرمایا: ”تمہاری غنیمتوں سے اتنا بھی میرے لیے حلال نہیں ہے سوائے خمس کے اور خمس بھی تم پر لوٹا دیا جاتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ گزر چکے ہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اور اللہ اور اس کے فرشتے آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائیں۔ ہمارے اہل علم نے آپ ﷺ کے حصے کے بارے میں اختلاف کیا ہے؛ بعض نے کہا: اسے ان حصوں پر لوٹا دیا جائے گا جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے۔ بعض نے کہا: امام کی مرضی سے صرف ہوگا جہاں وہ چاہے گا، اسلام اور اہل اسلام کے لیے اور بعض نے کہا: وہ اسے اسلحہ وغیرہ کے لیے رکھ لے گا اور مجھے پسند یہ ہے کہ امام اسے رکھ لے گا، اسلام کے معاملات کے لیے اور اہل اسلام کے لیے، اسلحہ وغیرہ کے لیے یا مصیبت زدوں کے لیے، جنگ میں ہوں یا حالتِ جنگ کے علاوہ۔ اس میں رسول اللہ ﷺ نے صرف کیا تھا؛ رسول اللہ ﷺ نے تالیف کے لیے دیا، حرب میں دیا اور خیبر کے سال اپنے صحابہ کو دیا، مہاجرین اور انصار میں سے ضرورت مندوں اور جو ضرورت مند نہ تھے ان کو، اور ان میں اکثر ضرورت مند تھے، سب کو حصے سے دیا۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ تالیفِ قلب کے لیے بھی دیتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12943
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»