السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
جماع أبواب تفريق الخمس -- باب: سهم الله وسهم رسوله صلى الله عليه وسلم من خمس الفيء والغنيمة باب: خمس (پانچواں حصہ) تقسیم کرنے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ فے اور مالِ غنیمت کے خمس میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حصے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْيَمَنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَهَبِيَّةٍ فِي تُرْبَتِهَا، فَقَسَمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ زَيْدٍ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، وَبَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَقَالَتْ: يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا؟ فَقَالَ: " إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ "، فَجَاءَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، مُشْرَبُ الْوَجْنَتَيْنِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: اتَّقِ اللهَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَمَنْ يُطِعِ اللهَ إِذَا عَصَيْتُهُ؟ أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي؟ " فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ قَتْلَهُ، قَالَ: أُرَاهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، فَمَنَعَهُ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ، لَئِنْ لَقِيتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ وَالِدِ الثَّوْرِيِّ.سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یمن سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے لیے سونا بھیجا، آپ ﷺ نے اسے چار آدمیوں: اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن حصن، زید طائی (بنی نبہان سے) اور علقمہ بن علاثہ عامری (بنی کلاب سے) میں تقسیم کر دیا۔ پس قریش غصے میں آ گئے اور کہا: ”آپ نے اہل نجد کے سرداروں کو دے دیا ہے اور ہمیں چھوڑ دیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ان کو تالیفِ قلب کے لیے دیا ہے۔“ پھر ایک آدمی آیا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، گال پھولے ہوئے، پیشانی ابھری ہوئی، داڑھی بہت گھنی اور سر منڈا ہوا تھا، اس نے کہا: ”اے محمد ﷺ! اللہ سے ڈرو۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر اس کی فرمانبرداری کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے زمین پر مجھے دیانت دار بنا کر بھیجا ہے، کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟“ اس شخص کی گستاخی پر ایک صحابی (راوی کہتے ہیں میرے خیال میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے) نے اسے قتل کرنے کی اجازت چاہی، آپ ﷺ نے انہیں اس سے روک دیا، پھر جب وہ شخص وہاں سے چلنے لگا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو زندہ چھوڑیں گے، اگر میں نے ان کو پا لیا تو ان کو ایسے قتل کروں گا جیسے قومِ عاد کا قتل ہوا تھا۔“