السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يعطي المؤلفة قلوبهم وغيرهم من المهاجرين وما يستدل به على أنه إنما كان يعطيهم من الخمس دون أربعة أخماس الغنيمة باب: نبی کریم ﷺ کا تالیفِ قلب کے لیے (نومسلموں) اور دیگر مہاجرین کو عطیات دینے کا بیان، اور اس بات کا استدلال کہ آپ ﷺ انہیں مالِ غنیمت کے بقیہ چار حصوں کے بجائے خمس (پانچویں حصے) سے عطا فرماتے تھے
حدیث نمبر: 12935
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: " فَوَاللهِ مَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ " وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: " فَلَمْ نَصْبِرْ ".حافظ ثناء اللہ
”اللہ کی قسم! تم جس چیز کو لے کر پلٹو گے وہ اس سے بہتر ہے جسے لے کر وہ پلٹیں گے۔“ اس کے آخر میں ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لیکن ہم نے صبر نہ کیا۔“