حدیث نمبر: 12936
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ قَالَتِ الْأَنْصَارُ: وَاللهِ إِنَّ هَذَا هُوَ الْعَجَبُ، إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَاءِ قُرَيْشٍ، وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُقْسَمُ بَيْنَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ إِلَى الْأَنْصَارِ خَاصَّةً فَقَالَ: " مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْكُمْ؟ " وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ، فَقَالُوا هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ، فَقَالَ: " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْغَنَائِمِ وَتَذْهَبُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ؟ " ثُمَّ قَالَ: " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا سَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْحَسَنِ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ يَقُولُ الْقَائِلُ فِي خُمُسِ الْغَنِيمَةِ إِذَا مُيِّزَ مِنْهَا: نَحْنُ غَنِمْنَا هَذَا، وَيُرِيدُونَ أَنَّ سَبَبَ مِلْكِ ذَلِكَ بِهِمْ، وَذَلِكَ مَوْجُودٌ فِي كَلَامِ النَّاسِ، وَعَلَى ذَلِكَ كَلِمَةُ الْأَنْصَارِ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخُمُسِ: " هُوَ لِي، ثُمَّ هُوَ مَرْدُودٌ فِيكُمْ"، فَلَمَّا أَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبْعَدِينَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ الْأَنْصَارُ الَّذِينَ هُمْ أَوْلِيَاؤُهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَخْبَرَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الْأَقْرَعَ وَأَصْحَابَهُ مِنْ خُمُسِ الْخُمُسِ.
حافظ ثناء اللہ

ابوالتیاح کہتے ہیں: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو انصار نے کہا: ”اللہ کی قسم! یہ تعجب کی بات ہے کہ ہماری تلواریں قریش کے خون سے لت پت ہوئیں اور ہماری غنیمتیں ان میں تقسیم کی جاتی ہیں۔“ نبی ﷺ کو اس کا پتا چلا تو آپ ﷺ نے انصار کو خاص طور پر بلایا، آپ ﷺ نے کہا: ”تم سے ہمیں کیا بات پہنچی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہم جھوٹ نہیں بولتے تھے، جو آپ کو پہنچا ہے وہ صحیح ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم راضی نہیں کہ لوگ غنیمتیں لے جائیں اور تم رسول اللہ ﷺ کو لے اپنے گھروں میں جاؤ؟ اگر کسی وادی میں لوگ چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غنیمت کے خمس کے بارے میں کہنے والے کہتے ہیں کہ جب اس میں تمیز کی جائے، ہم نے یہ غنیمت پائی اور وہ اس کی ملکیت کے سبب یہ ارادہ رکھتے تھے اور یہ انصار کے کلام میں موجود تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خمس میرے لیے ہے پھر تم میں لوٹا دیا جاتا ہے،“ جب رسول اللہ ﷺ نے دور والوں کو دیا تو انصار کے ان لوگوں نے انکار کیا جو آپ کے قریبی تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اقرع اور اس کے ساتھیوں کو خمس کا خمس دیا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12936
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3146»