السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يعطي المؤلفة قلوبهم وغيرهم من المهاجرين وما يستدل به على أنه إنما كان يعطيهم من الخمس دون أربعة أخماس الغنيمة باب: نبی کریم ﷺ کا تالیفِ قلب کے لیے (نومسلموں) اور دیگر مہاجرین کو عطیات دینے کا بیان، اور اس بات کا استدلال کہ آپ ﷺ انہیں مالِ غنیمت کے بقیہ چار حصوں کے بجائے خمس (پانچویں حصے) سے عطا فرماتے تھے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّيْرُعَاقُولِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فِيمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، قَالَ: فَحُدِّثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ لَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ غَيْرَهُمْ، فَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ " فَقَالَ لَهُ فُقَهَاؤُهُمْ: أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا نَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِ اللهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ؛ أَتَأَلَّفُهُمْ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللهِ، لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ ⦗٥٤٩⦘ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ؟ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ رَضِينَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً؛ فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلَقَوَا اللهَ وَرَسُولَهُ عَلَى الْحَوْضِ ". قَالَ أَنَسٌ: إِذًا نَصْبِرُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِيهِ: " فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ ".سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار کے آدمیوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہوازن کے اموال میں سے اللہ نے جو اپنے رسول ﷺ کو دیا ہے (اس میں) رسول اللہ ﷺ نے قریش کے آدمیوں کو ایک سو اونٹ دیے۔ انہوں نے کہا: اللہ رسول کو معاف کرے، آپ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑتے ہیں اور ہماری تلواریں ان کے خون سے لت پت ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ سے ان کی بات بیان کی گئی۔ آپ ﷺ نے ان کو بلایا اور چمڑے کے خیمے میں جمع کرلیا، کسی کو نہ چھوڑا۔ جب رسول اللہ ﷺ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تمہاری طرف سے کیا بات پہنچی ہے؟“ ان کے سمجھ دار لوگوں نے کہا: ہمارے معزز لوگوں نے کچھ نہیں کہا اور ہمارے نو عمر لوگ جو ہیں انہوں نے ایسی بات کہی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ اللہ اپنے رسول کو معاف کرے کہ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑتے ہیں اور ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ اس طرح میں ان کی دلجوئی کرتا ہوں، کیا تم اس پر راضی نہیں کہ دوسرے لوگ مال و دولت ساتھ لے جائیں اور تم نبی ﷺ کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤ۔ اللہ کی قسم! جو چیز تم اپنے ساتھ لے جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے جا رہے ہیں۔“ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم راضی ہیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی، اس وقت صبر کرنا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آ ملو۔ میں حوضِ کوثر پر ملوں گا۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم صبر کریں گے۔