السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: التسوية في الغنيمة والقوم يهبون الغنيمة باب: مالِ غنیمت کی تقسیم میں برابری کرنے اور لوگوں کے اپنا مالِ غنیمت ہبہ کر دینے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُنَيْنٍ، فَلَمَّا أَصَابَ مِنْ هَوَازِنَ مَا أَصَابَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَسَبَايَاهُمْ أَدْرَكَ وَفْدُ هَوَازِنَ بِالْجِعْرَانَةِ وَقَدْ أَسْلَمُوا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَنَا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ، وَقَدْ أَصَابَنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ، فَمُنَّ عَلَيْنَا مَنَّ اللهُ عَلَيْكَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِسَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ أَحَبُّ إِلَيْكُمْ أَمْ أَمْوَالُكُمْ؟ " فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَبَيْنَ أَمْوَالِنَا، أَبْنَاؤُنَا وَنِسَاؤُنَا أَحَبُّ إِلَيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ، وَإِذَا أَنَا صَلَّيْتُ بِالنَّاسِ فَقُومُوا وَقُولُوا: إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ، وَبِالْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أَبْنَائِنَا وَنِسَائِنَا، فَسَأُعْطِيكُمْ عِنْدَ ذَلِكَ وَأَسْأَلُ لَكُمْ ". فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ الظُّهْرَ قَامُوا فَقَالُوا مَا أَمَرَهُمْ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ⦗٥٤٨⦘ فَهُوَ لَكُمْ "، فَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: فَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: وَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا، وَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا، فَقَالَتْ بَنُو سُلَيْمٍ: بَلْ مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو فَزَارَةَ فَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَمْسَكَ مِنْكُمْ بِحَقِّهِ فَلَهُ بِكُلِّ إِنْسَانٍ سِتَّةُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ فَيْءٍ نُصِيبُهُ "، فَرَدُّوا إِلَى النَّاسِ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ النَّاسُ يَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْسِمْ عَلَيْنَا فَيْئَنَا، حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى شَجَرَةٍ فَانْتُزِعَتْ عَنْهُ رِدَاءُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ لَكُمْ عَدَدُ شَجَرِ تِهَامَةَ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ مَا أَلْفَيْتُمُونِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذَّابًا "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِ بَعِيرٍ وَأَخَذَ مِنْ سَنَامِهِ وَبَرَةً فَجَعَلَهَا بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، وَاللهِ مَا لِي مِنْ فَيْئِكُمْ وَلَا هَذِهِ الْوَبَرَةِ إِلَّا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ؛ فَأَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمَخِيطَ؛ فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِكُبَّةٍ مِنْ خُيُوطِ شَعَرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخَذْتُ هَذَا لِأَخِيطَ بِهِ بَرْذَعَةَ بَعِيرٍ لِي دَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا حَقِّي مِنْهَا لَكَ "، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَمَّا إِذَا بَلَغَ الْأَمْرُ هَذَا فَلَا حَاجَةَ لِي بِهَا، فَرَمَى بِهَا مِنْ يَدِهِ.سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، جب بنو ہوازن کو ان کے مالوں اور قیدیوں کی وجہ سے مصیبت آئی تو ہوازن کے وفد نے نبی ﷺ کو جعرانہ میں پا لیا اور وہ مطیع ہو چکے تھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے لیے اصل ہے اور قبیلہ ہے اور ہمیں وہ مصیبت آئی ہے جو آپ پر مخفی نہیں ہے، پس آپ ہم پر احسان کریں، اللہ آپ پر احسان کرے گا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں تمہاری بیویاں اور اولاد زیادہ محبوب ہے یا تمہارا مال؟“ تو انھوں نے کہا: آپ نے ہمیں ہماری (عورتوں) اور مالوں میں اختیار دیا ہے، تو ہمیں ہماری اولاد اور ہماری بیویاں زیادہ محبوب ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس قدر میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ ہے تو وہ میں تم کو دے چکا ہوں، اور جب میں لوگوں کو نماز پڑھاؤں تو تم کھڑے ہو جانا اور کہنا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے سبب اللہ سے مدد چاہتے ہیں، مسلمانوں سے اپنی اولاد اور اپنی عورتوں کے بارے میں۔ پس میں تم کو اس وقت دے دوں گا اور میں تمہارے لیے سفارش کروں گا۔“ جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی تو وہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے وہی کہا جس کا رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم دیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ ہے وہ تمہارے لیے ہے۔“ یہ سن کر مہاجرین رضی اللہ عنہم نے بھی کہا: ہمارے حصے بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے ہیں، اور انصار رضی اللہ عنہم نے کہا: ہمارے حصے بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے ہیں۔ سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو تمیم اس میں شامل نہیں، اور سیدنا عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو سلیم بھی اس میں شامل نہیں ہیں۔ (تب) بنو سلیم نے کہا: ہمارے حصے بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے ہیں۔ سیدنا عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو فزارہ اس میں شامل نہیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے تم میں سے اپنا حق روکا ہے تو اس کے لیے چھ اونٹ ہیں، پہلے مالِ فئی میں سے ہم اس کو اس کا حصہ دیں گے، پس ان لوگوں کو ان کی عورتیں اور اولاد لوٹا دو۔“ پھر رسول اللہ ﷺ سوار ہوئے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے پیچھے تھے، وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے لیے ہمارا مال تقسیم کر دیں، یہاں تک کہ وہ آپ ﷺ کو گھیر کر ایک درخت کی طرف لے گئے اور آپ ﷺ کی چادر مبارک آپ سے الگ ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! میری چادر مجھ پر لوٹاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تہامہ کے درختوں کے برابر بھی جانور ہوں تو میں وہ تم میں تقسیم کر دوں گا، پھر تم مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہ پاؤ گے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ ایک اونٹ کے پاس کھڑے ہوئے اور اس کی کوہان سے بال پکڑے، اسے اپنی ہتھیلی میں رکھا اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہارے مالِ غنیمت میں سے میرے لیے کچھ نہیں ہے اور نہ ہی یہ بال، سوائے خمس کے اور خمس بھی تمہیں ہی لوٹا دیا جائے گا۔“ پھر فرمایا: ”اے لوگو! سوئی اور دھاگا بھی دے دو، کیونکہ مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کے لیے قیامت کے دن شرم، آگ اور ننگ ہوگی۔“ انصار کا ایک آدمی بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اسے درست کرنے کے لیے پکڑا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا حق بھی تیرے لیے ہے۔“ اس آدمی نے کہا: جب یہ بات ہے تو مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں اور اسے پھینک دیا۔