السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في مفاداة الرجال منهم بالمال باب: دشمن کے مردوں کو مال کے بدلے فدیہ لے کر چھوڑنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12852
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنا أَبُو الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ ⦗٥٢٥⦘ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ النَّخَعِيِّ، حَدَّثَنِي أَشْيَاخُنَا قَالُوا: صَارَ فِي قِسْمَةِ النَّخَعِ رَجُلٌ مِنْ أَبْنَاءِ الْمُلُوكِ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ، فَأَرَادَ سَعْدٌ أَنْ يَأْخُذَهُ مِنْهُمْ، فَعَدَوْا عَلَيْهِ بِسِيَاطِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ: إِنِّي كَتَبْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالُوا: قَدْ رَضِينَا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: " إِنَّا لَا نُخَمِّسُ أَبْنَاءَ الْمُلُوكِ "، فَأَخَذَهُ مِنْهُمْ سَعْدٌ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: لِأَنَّ فِدَاءَهُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمارے شیوخ نے بیان کیا کہ قادسیہ کے دن بادشاہوں کے بیٹوں میں سے ایک آدمی تقسیم ہو گیا، سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لینے کا ارادہ کیا۔ وہ صبح کے وقت آئے، اس نے ان کو پیغام دیا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم راضی ہیں، پس عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف لکھا کہ ہم بادشاہوں کے بیٹوں سے خمس نہیں لیتے۔ پس سعد رضی اللہ عنہ نے اسے ان سے لے لیا۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کا فدیہ اس سے زیادہ تھا۔