السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في مفاداة الرجال منهم بالمال باب: دشمن کے مردوں کو مال کے بدلے فدیہ لے کر چھوڑنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12851
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنِي ضَبَّةُ بْنُ مِحْصَنٍ قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَبُو مُوسَى اصْطَفَى أَرْبَعِينَ مِنْ أَبْنَاءِ الْأَسَاوِرَةِ لِنَفْسِهِ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ أَبُو مُوسَى فَقَالَ: " مَا بَالُ أَرْبَعِينَ اصْطَفَيْتَهُمْ لِنَفْسِكَ مِنْ أَبْنَاءِ الْأَسَاوِرَةِ؟ " فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اصْطَفَيْتُهُمْ وَخَشِيتُ أَنْ يُخْدَعَ عَنْهُمُ الْجُنْدُ، فَفَادَيْتُهُمْ وَاجْتَهَدْتُ فِي فِدَائِهِمْ، ثُمَّ خَمَّسْتُ وَقَسَمْتُ، فَقَالَ ضَبَّةُ: فَصَادِقٌ وَاللهِ، فَمَا كَذَبَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، وَمَا كَذَّبْتُهُ.حافظ ثناء اللہ
ضبہ بن محصن رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے قیدیوں کے بیٹوں میں سے چالیس کو اپنے لیے منتخب کر لیا۔ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا کیا معاملہ ہے، تو نے چالیس بیٹوں کو چن لیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں نے ان کو چن لیا ہے، مجھے ڈر لاحق ہوا کہ لشکر ان کو دھوکا دے گا، پس میں نے ان کا فدیہ دیا اور ان کے فدیے میں کوشش کی، پھر میں نے ان کو تقسیم کر لیا۔ ضبہ رحمہ اللہ نے کہا: سچ ہے اللہ کی قسم! نہ امیر المؤمنین نے جھوٹ بولا اور نہ میں نے ان سے جھوٹ بولا۔