السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قتل من رأى الإمام منهم باب: امام ان (قیدیوں) میں سے جسے مناسب سمجھے اسے قتل کرنے کے متعلق جو مروی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ الْأَبْنَاوِيُّ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ، وَمَنَّ عَلَيْهِمْ حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَّمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ وَأَسْلَمُوا، وَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہود نے نبی ﷺ سے جنگ کی۔ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا اور قریظہ کو برقرار رکھا اور ان پر احسان کیا، یہاں تک کہ قریظہ نے اس کے بعد جنگ کی تو ان کے مردوں کو قتل کر دیا گیا اور ان کی عورتوں کو تقسیم کر دیا اور ان کی اولاد اور مالوں کو بھی مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا، مگر ان کے بعض رسول اللہ ﷺ سے ملے۔ آپ ﷺ نے ان کو امان دی۔ وہ مسلمان ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے یہود کو جلا وطن کر دیا، بنو قینقاع (اور وہ عبداللہ بن سلام کی قوم ہے) اور بنی حارثہ کے یہودی اور مدینہ کے تمام یہودی، ان سب کو جلا وطن کر دیا۔