السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في من الإمام على من رأى من الرجال البالغين من أهل الحرب باب: دار الحرب کے بالغ مردوں میں سے امام کا جسے مناسب سمجھے احسان کر کے چھوڑ دینے کے متعلق جو مروی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ أَبُو عَزَّةَ الْجُمَحِيُّ أُسِرَ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّنِي ذُو بَنَاتٍ وَحَاجَةٍ، وَلَيْسَ بِمَكَّةَ أَحَدٌ يَفْدِينِي، وَقَدْ عَرَفْتَ حَاجَتِي، فَحَقَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهُ وَأَعْتَقَهُ، وَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَعَاهَدَهُ أَنْ لَا يُعِينَ عَلَيْهِ بِيَدٍ وَلَا لِسَانٍ، وَامْتَدَحَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَفَا عَنْهُ. فَذَكَرَ الشِّعْرَ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّتَهُ مَعَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ الْجُمَحِيِّ، وَإِشَارَةَ صَفْوَانَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ مَعَهُ فِي حَرْبِ أُحُدٍ وَتَكَفُّلَهُ بَنَاتِهِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَطَاعَهُ، فَخَرَجَ فِي الْأَحَابِيشِ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ، قَالَ: فَأُسِرَ أَبُو ⦗٥٢١⦘ عَزَّةَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنْعِمْ عَلَيَّ، خَلِّ سَبِيلِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَحَدَّثُ أَهْلُ مَكَّةَ أَنَّكَ لَعِبْتَ بِمُحَمَّدٍ مَرَّتَيْنِ "، فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ.محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابو عزہ الجہمی بدر میں قیدی بنایا گیا تھا، اس نے نبی ﷺ سے کہا: ”اے محمد ﷺ! میں بیٹیوں والا ہوں اور محتاج ہوں اور مکہ میں میرا کوئی ایسا نہیں جو میرا فدیہ دے اور آپ ﷺ میری حالت پہچانتے ہیں۔“ نبی ﷺ نے اس کا خون محفوظ کیا اور اسے آزاد کر دیا اور اس کا راستہ چھوڑ دیا اور وعدہ لیا کہ وہ ہاتھ اور زبان سے نبی ﷺ کے خلاف مدد نہیں کرے گا اور اس نے نبی ﷺ کی تعریف کی جب آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا۔ پھر اس نے صفوان بن امیہ کو سارا قصہ بتایا اور اس نے احد کی جگہ میں حصہ لینے کا اشارہ کیا اور اس کی بیٹیوں کی کفالت کا ذمہ لیا اور وہ ہمیشہ کہتا رہا یہاں تک کہ ابو عزہ بنی کنانہ کے پاس لایا گیا، اس نے کہا: ”میرے اوپر انعام کریں، میرا راستہ چھوڑ دیں۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، تاکہ مکہ والے باتیں نہ کریں کہ تو محمد ( ﷺ ) کے ساتھ دو دفعہ کھیلا ہے۔“ آپ ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔