السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في من الإمام على من رأى من الرجال البالغين من أهل الحرب باب: دار الحرب کے بالغ مردوں میں سے امام کا جسے مناسب سمجھے احسان کر کے چھوڑ دینے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12840
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: " وَكَانَ مِمَّنْ تَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُسَارَى بَدْرٍ بِغَيْرِ فِدَاءٍ الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ الْمَخْزُومِيُّ، وَكَانَ مُحْتَاجًا، فَلَمْ يُفَادَ، فَمَنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو عَزَّةَ الْجُمَحِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَنَاتِي فَرَحِمَهُ فَمَنَّ عَلَيْهِ، وَصَيْفِيُّ بْنُ عَابِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، أَخَذَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفِ ".حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بدر کے قیدیوں میں سے جسے رسول اللہ ﷺ نے بغیر فدیہ کے چھوڑا ان میں مطلب بن حنطب مخزومی تھا اور وہ محتاج تھا، اس نے فدیہ نہ دیا، رسول اللہ ﷺ نے اس پر احسان کیا اور ابو العزہ الجمحی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری بیٹیاں ہیں“ آپ ﷺ نے اس پر شفقت کی اور احسان کیا اور صیفی بن عائز مخزومی سے رسول اللہ ﷺ نے وعدہ لیا لیکن اس نے پورا نہ کیا۔