حدیث نمبر: 12842
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ح، وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمَرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: أَسَرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَقِيلٍ فَأَوْثَقُوهُ فَطَرَحُوهُ فِي الْحَرَّةِ، فَمَرَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مَعَهُ، أَوْ قَالَ: أَتَى عَلَيْهِ عَلَى حِمَارٍ، وَتَحْتَهُ قَطِيفَةٌ، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: " مَا شَأْنُكَ؟ " قَالَ: فِيمَا أُخِذْتُ؟ قَالَ: " أُخِذْتَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ " وَكَانَتْ ثَقِيفٌ قَدْ أَسَرَتْ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: " مَا شَأْنُكَ؟ " قَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، قَالَ: " لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ "، قَالَ: وَتَرَكَهُ وَمَضَى، قَالَ: فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، فَرَجَعَ فَقَالَ: " مَا شَأْنُكَ؟ " فَقَالَ: إِنِّي جَائِعٌ فَأَشْبِعْنِي، وَحَسِبَهُ قَالَ: إِنِّي عَطْشَانُ فَاسْقِنِي، قَالَ: " هَذِهِ حَاجَتُكَ "، فَفَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ أَسَرَتْهُمَا ثَقِيفٌ لَفْظُ حَدِيثِ إِسْحَاقَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بنی عقیل کے ایک آدمی کو قیدی بنایا، اسے باندھ کر حرہ نامی پتھریلی زمین میں پھینک دیا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس سے گزرے، ہم بھی پاس تھے یا (راوی نے) کہا: آپ ﷺ گدھے پر سوار ہو کر آئے اور آپ ﷺ کے نیچے مخمل کی چادر تھی۔ اس نے پکارا: اے محمد! آپ ﷺ اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”تیرا کیا معاملہ ہے؟“ اس نے کہا: مجھے کیوں پکڑا گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے حلیف ثقیف کے جرم میں تجھے پکڑا گیا ہے اور ثقیف نے نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے دو آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔“ اس نے کہا: اے محمد! اے محمد! آپ ﷺ نے پوچھا: ”تیرا کیا معاملہ ہے؟“ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تو نے کہا ہے، اگر تو (دل سے) اس کا مالک ہے تو تو مکمل کامیابی پا گیا ہے۔“ آپ ﷺ نے اسے وہیں چھوڑا اور چلے گئے، اس نے پھر پکارا: اے محمد! آپ ﷺ نے لوٹ کر پوچھا: ”کیا معاملہ ہے؟“ اس نے کہا: میں بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلائیں اور میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیری ضرورت ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے اس کے فدیہ میں ان دو آدمیوں کو لیا جو ثقیف نے قیدی بنائے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12842
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1614»