السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في تخميس السلب باب: مقتول کے سامان میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12789
قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ: شِبْرُ بْنُ عَلْقَمَةَ، قَالَ: " بَارَزْتُ رَجُلًا يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ فَقَتَلْتُهُ، فَبَلَغَ سَلَبُهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، فَنَفَّلَنِيهِ سَعْدٌ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَاثْنَا عَشَرَ أَلْفًا كَثِيرٌ، وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
اسود بن قیس اپنی قوم کے آدمی سے، جسے شبر بن علقمہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، نقل فرماتے ہیں کہ میں نے قادسیہ کے دن ایک آدمی سے مبارزت کی، میں نے اسے قتل کر دیا۔ اس کا سلب بارہ ہزار کو پہنچا۔ پس سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے دے دیا۔