❮
❯
حدیث نمبر: 12790
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مِيكَائِيلَ، أنا عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا أَبُو السُّكَيْنِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الطَّائِيُّ، ثنا عَمُّ أَبِي زَحْرِ بْنِ حِصْنٍ قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي حُمَيْدُ بْنُ مَنْهَبٍ قَالَ: قَالَ خُرَيْمُ بْنُ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ: " لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَعْدَى لِلْعَرَبِ مِنْ هُرْمُزَ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ مُسَيْلِمَةَ وَأَصْحَابِهِ أَقْبَلَ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَصْرَةِ، فَلَقِيَنَا هُرْمُزُ بِكَاظِمَةَ فِي جَمْعٍ عَظِيمٍ، فَبَرَزَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَدَعَا إِلَى الْبِرَازِ، فَبَرَزَ لَهُ هُرْمُزُ، فَقَتَلَهُ خَالِدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ، فَبَلَغَتْ قَلَنْسُوَةُ هُرْمُزَ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ، وَكَانَتِ الْفُرْسُ إِذَا شَرَّفُوا فِيهِمُ الرَّحُلَ، جَعَلُوا قَلَنْسُوَتَهُ بِمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا خریم بن اوس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عرب کا دشمن ہرمز سے زیادہ کوئی نہ تھا، جب ہم مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے تو وہ بصرہ کے ایک کونے میں آیا، ہم کاظمہ مقام پر ہرمز سے ملے، وہ ایک بڑے لشکر کے ساتھ تھا، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اسے دعوتِ مبارزت دی، ہرمز نے بھی مقابلہ کیا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ لکھا، پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا سلب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور ہرمز کی ٹوپی کی قیمت ایک سو ہزار درہم تھی اور اہلِ فارس جب اپنے میں سے کسی آدمی کو بلند مرتبہ دیتے تو اس کی ٹوپی ایک سو ہزار درہم کی بناتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12790
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»