السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في تخميس السلب باب: مقتول کے سامان میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالنے کے متعلق جو مروی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ ⦗٥٠٧⦘ مَالِكٍ قَتَلَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِائَةَ رَجُلٍ إِلَّا رَجُلًا مُبَارَزَةً، وَإِنَّهُمْ لَمَّا غَزَوَا الزَّارَةَ خَرَجَ دِهْقَانُ الزَّارَةِ فَقَالَ: رَجُلٌ وَرَجُلٌ، فَبَرَزَ إِلَيْهِ الْبَرَاءُ، فَاخْتَلَفَا بِسَيْفَيْهِمَا ثُمَّ اعْتَنَقَا، فَتَوَرَّكَهُ الْبَرَاءُ فَقَعَدَ عَلَى كَبِدِهِ، ثُمَّ أَخَذَ السَّيْفَ فَذَبَحَهُ، وَأَخَذَ سِلَاحَهُ وَمِنْطَقَتَهُ وَأَتَى بِهِ عُمَرَ، فَنَفَّلَهُ السِّلَاحَ وَقَوَّمَ الْمِنْطَقَةَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، فَخَمَّسَهَا وَقَالَ: " إِنَّهَا مَالٌ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: هَذِهِ الرِّوَايَةُ مِنْ خَمْسِ السَّلَبَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَيْسَتْ مِنْ رِوَايَتِنَا، وَلَهُ رِوَايَةٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي زَمَانِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تُخَالِفُهَا.حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے مشرکین کے ایک کم سو آدمیوں کو مبارزت (دوبدو مقابلے) میں قتل کیا تھا۔ جب انہوں نے زارہ پر حملہ کیا تو زارہ کا دہقان (سردار) نکلا اور کہنے لگا: ایک آدمی کے مقابلے میں ایک آدمی۔ براء رضی اللہ عنہ نے اس کا مقابلہ کیا، دونوں کی تلواریں ٹکرائیں، پھر دونوں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے۔ براء رضی اللہ عنہ نے اسے گرا دیا اور اس کے پیٹ پر بیٹھ گئے، پھر تلوار لے کر اسے ذبح کر دیا اور اس کا اسلحہ اور کمر پٹی لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلحہ براء رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور کمر پٹی کی قیمت تیس ہزار لگائی اور اس میں سے خمس نکالا اور فرمایا: ”وہ مال ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سلب میں سے خمس لینے کی یہ روایت ہماری روایات میں سے نہیں ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک روایت ہے جو اس کے خلاف ہے۔