حدیث نمبر: 12787
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْبَرَاءَ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ بَارَزَ مَرْزُبَانَ الزَّارَةِ فَحَمَلَ عَلَيْهِ بِالرُّمْحِ فَدَقَّ صُلْبَهُ وَأَخَذَ سِوَارَيْهِ وَأَخَذَ مِنْطَقَتَهُ، فَصَلَّى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمًا صَلَاةً ثُمَّ قَالَ: " أَثَمَّ أَبُو طَلْحَةَ؟ إِنَّا كُنَّا نُنَفِّلُ الرَّجُلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَلَبَ رَجُلٍ مِنَ الْكُفَّارِ إِذَا قَتَلَهُ، وَإِنَّ سَلَبَ الْبَرَاءِ قَدْ بَلَغَ مَالًا، وَلَا أَرَانِي إِلَّا خَامِسَهُ، فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ: فَخَمَّسَهُ؟ فَقَالَ: لَا أَدْرِي وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ خَمَّسَهُ.
حافظ ثناء اللہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے مرزبان سے مقابلہ کیا، اس پر نیزے کا وار کیا، اسے اس کی پشت میں گھونپ دیا اور اس کے دو کنگن اور اس کی کمر پٹی کو پکڑ لیا۔ اس دن عمر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی، پھر کہا: کیا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ہیں؟ ہم مسلمانوں کے آدمی کو کافروں کے آدمی کا سلب دینے لگے ہیں، کیونکہ مسلمان نے اسے قتل کیا ہے اور براء کا سلب مال کو پہنچ چکا ہے اور میں اس میں سے خمس لینا چاہتا ہوں، پس محمد رحمہ اللہ سے کہا گیا: کیا اس سے خمس نکالا گیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12787
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»