حدیث نمبر: 12786
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَوَّلَ سَلَبٍ خُمِّسَ فِي الْإِسْلَامِ سَلَبُ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ، كَانَ حَمَلَ عَلَى الْمَرْزُبَانِ فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ، وَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ، فَنَزَلَ إِلَيْهِ فَأَخَذَ مِنْطَقَتَهُ وَسِوَارَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمَ مَشَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَى أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، " إِنَّا كُنَّا لَا نُخَمِّسُ السَّلَبَ، وَإِنَّ سَلَبَ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ مَالٌ، وَأَنَا خَامِسُهُ " فَقَوَّمُوا الْمِنْطَقَةَ وَالسِّوَارَيْنِ ثَلَاثِينَ أَلْفًا.
حافظ ثناء اللہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اسلام میں پہلا سلب جس سے خمس لیا گیا تھا وہ براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا سلب تھا، وہ مرزبان پر حملہ آور ہوئے تھے، اسے زخمی کیا، پھر اسے قتل کر دیا اور اس کے ساتھی اس سے علیحدہ ہو گئے، براء اس کی طرف گئے، اس کی کمر پیٹی اور کنگن پکڑ لیے، جب وہ آئے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس چل کر آئے اور کہا: اے ابو طلحہ! ہم خمس نہیں لیتے سلب سے اور براء کا سلب تو مال ہے اور میں اس سے خمس نکالنے والا ہوں، پس انہوں نے کمر پیٹی اور کنگن کی تیس ہزار قیمت لگائی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12786
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن ابي شيبه 33088»