السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: سهم الصفي باب: صفی (مالِ غنیمت میں سے رسول اللہ ﷺ کے خاص حصے) کا بیان
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بُطْحَا، ⦗٤٩٧⦘ قَالُوا: ثنا عفَّانُ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: وَقَعَ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ، قَالَ: " فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَصْنَعُهَا وَتُهَيِّئُهَا " قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: " تَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا، وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَفَّانَ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دحیہ کے حصہ میں ایک لونڈی آئی، تو عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! دحیہ کے حصہ میں خوبصورت لونڈی آئی ہے۔“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اسے سات شخصوں کے بدلے میں خرید لیا اور پھر ام سلیم (رضی اللہ عنہا) کے سپرد کر دیا کہ انہیں تیار کر دیں۔ راوی کہتے ہیں: میرے خیال میں لونڈی نے ان کے گھر عدت گزاری تھی اور وہ صفیہ (رضی اللہ عنہا) تھیں۔
(ب) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صفیہ (رضی اللہ عنہا) دحیہ کے حصہ میں آئیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کی تعریفیں کرنے لگے اور وہ کہہ رہے تھے: ”ہم نے اس جیسی قیدی نہیں دیکھی“، آپ ﷺ نے دحیہ کو بلایا اور اس کے بدلے (کچھ اور) دحیہ کو دیا۔ پھر صفیہ (رضی اللہ عنہا) کو میری ماں کو دے دیا اور فرمایا: ”اسے تیار کرو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معاملہ جس میں ہمارے نزدیک علم میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا اور ہم نے ہمیشہ ان کے قول کی حفاظت کی ہے، وہ یہ ہے کہ جو رسول اللہ ﷺ کے لیے غنیمت کے مال سے چن لینا تھا، وہ آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں تھا۔