السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: سهم الصفي باب: صفی (مالِ غنیمت میں سے رسول اللہ ﷺ کے خاص حصے) کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا قَيْسُ بْنُ أُنَيْفٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْتَمِسْ غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى خَيْبَرَ "، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي، وَأَنَا غُلَامٌ رَاهَقْتُ الْحُلُمَ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا يَقُولُ: " اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ". ثُمَّ قَدِمْنَا خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا، وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَئْذِنْ مَنْ حَوْلَكَ "، فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ: " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ "، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ " لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ أَيْضًا عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنْ أَنَسٍ.حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنے غلاموں میں سے کوئی غلام تلاش کرو جو میری خدمت کرے، یہاں تک کہ میں خیبر کی طرف نکل جاؤں۔“ پس حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر ردیف بنا کر لے گئے اور میں بلوغت کے قریب تھا، پس میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتا تھا، جب آپ ﷺ اترتے تھے، میں آپ ﷺ سے اکثر یہ دعا سنتا تھا، آپ ﷺ فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، غم اور عاجزی سے، سستی، بخل، بزدلی، قرض داری کے بوجھ اور ظالم کے اپنے اوپر غلبہ سے۔“
پھر ہم خیبر آئے، جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو قلعہ پر فتح عطا فرمائی تو حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کی خوبصورتی کا ذکر کیا گیا اور تحقیق ان کا خاوند قتل ہو چکا تھا اور وہ نئی دلہن تھیں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے لیے منتخب فرما لیا، آپ ﷺ انہیں لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب ہم مقام صہباء پر پہنچے تو وہ حیض سے پاک ہوئیں تو آپ ﷺ نے ان سے خلوت فرمائی، اس کے بعد آپ ﷺ نے حیس (حلوہ) تیار کرا کر چھوٹے سے دستر خوان پر رکھوایا اور مجھے حکم دیا کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو دعوت دے دو اور یہی رسول اللہ ﷺ کا حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا ولیمہ تھا، آخر ہم مدینہ کی طرف چلے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے اپنے پیچھے اپنی چادر سے پردہ کیا ہوا تھا، جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سوار ہونے لگتیں تو آپ ﷺ اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنا گھٹنا کھڑا رکھتے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں رسول اللہ ﷺ کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہوتیں، اسی طرح ہم چلتے رہے، اور جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ نے احد پہاڑ کو دیکھا اور فرمایا: ”یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔“ اس کے بعد آپ ﷺ نے مدینہ کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا: ”اے اللہ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدان کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں، جس طرح ابراہیم نے مکہ معظمہ کو حرمت والا قرار دیا تھا، اے اللہ! مدینہ کے لوگوں کو ان کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما۔“