السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: سهم الصفي باب: صفی (مالِ غنیمت میں سے رسول اللہ ﷺ کے خاص حصے) کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا ⦗٤٩٥⦘ الْحِيُّ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، أَوْ قَالَ: فِي رَجَبٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا مِنْ قَوْمِنَا، قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: آمُرُكُمْ أَنْ تَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللهُ، وَتُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ سَهْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالصَّفِيَّ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ " تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ بِذِكْرِ الصَّفِيِّ فِيهِ.ابو جمرہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے: عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ربیعہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى» ”مرحبا اس قوم کو، بغیر کسی رسوائی اور ندامت کے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ربیعہ کے قبیلے سے ہیں، ہم آپ کے پاس بڑی مشقت کے بعد آئے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر کا قبیلہ ہے، ہم آپ کے پاس صرف اشہرِ حرم میں پہنچ سکتے ہیں، پس ہمیں کوئی واضح حکم دے دیں، ہم اس کی خبر اپنے پچھلوں کو بھی دیں اور ہم جنت میں داخل ہو جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار سے روکتا ہوں، میں تمہیں ایک اللہ پر ایمان کا حکم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو ایمان باللہ کیا ہے؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم غنیمت کے مال سے خمس دو گے اور میں تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں: «الدُّبَّاءِ» (کدو) سے، «الْحَنْتَمِ» (سبز لاکھی برتن) سے، «النَّقِيرِ» (کریدی لکڑی کے برتن) سے، «الْمُزَفَّتِ» (روغنی برتن) سے۔“ اور کبھی «النَّقِيرِ» کا لفظ بولا اور فرمایا: ”ان کو یاد رکھو اور اپنے پچھلوں کو بھی ان کی خبر دو۔“