حدیث نمبر: 12749
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ: كُنَّا بِالْمِرْبَدِ جُلُوسًا، وَأُرَانِي أَحْدَثَ الْقَوْمِ، أَوْ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، قَالَ: فَأَتَى عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قُلْنَا: كَأَنَّ هَذَا رَجُلٌ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ؟ قَالَ: أَجَلْ، فَإِذَا مَعَهُ كِتَابٌ فِي قِطْعَةِ أَدَمٍ، وَرُبَّمَا قَالَ: فِي قِطْعَةِ جِرَابٍ، فَقَالَ: هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ: " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ، وَهُمْ حَيٌّ مِنْ عُكْلٍ، إِنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ، وَفَارَقْتُمُ الْمُشْرِكِينَ، وَأَعْطَيْتُمُ الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ، ثُمَّ سَهْمَ النَّبِيِّ وَالصَّفِيِّ، وَرُبَّمَا قَالَ: صَفِيَّةً، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ ". قَالُوا: هَاتِ، حَدِّثْنَا أَصْلَحَكَ اللهُ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ تُذْهِبُ كَثِيرًا مِنْ وَحَرِ الصَّدْرِ ". قَالَ قُرَّةُ: فَقُلْتُ لَهُ: وَغْرِ الصَّدْرِ؟ فَقَالَ: وَحَرِ الصَّدْرِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ بِهِ؟ فَأَهْوَى إِلَى صَحِيفَةٍ فَأَخَذَهَا، ثُمَّ انْطَلَقَ مُسْرِعًا ثُمَّ قَالَ: أَلَا أَرَاكُمْ تَخَافُونَ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهِ لَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا الْيَوْمَ.
حافظ ثناء اللہ

یزید بن عبداللہ بن شِخِّیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم مِربد میں بیٹھے ہوئے تھے، وہ مجھے لوگوں میں نو عمر خیال کرتے تھے۔ ہمارے پاس دیہات کا ایک آدمی آیا، جب ہم نے اسے دیکھا تو ہم نے کہا: لگتا ہے یہ آدمی اس شہر کا نہیں ہے۔ اس نے کہا: ہاں۔ اس کے پاس چمڑے وغیرہ کا لکھا ہوا ایک ٹکڑا تھا، اس نے کہا: یہ ٹکڑا میرے لیے رسول اللہ ﷺ نے لکھا تھا۔ پس اس میں لکھا تھا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، نبی محمد ﷺ کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے ہے اور وہ عُکل کے قبیلے سے ہیں، بیشک اگر تم نماز پڑھو، زکوۃ ادا کرو اور مشرکوں سے علیحدہ ہو جاؤ اور غنیمتوں سے خمس دو، پھر نبی ﷺ کا حصہ اور صفی (منتخب مال) تقسیم سے پہلے دو تو تم اللہ کی امان میں ہو اور اس کے رسول ﷺ کی امان میں ہو۔ انہوں نے کہا: لاؤ ہم بیان کریں، اللہ تیری اصلاح کرے جو تو نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبر والے مہینے کے روزے اور ہر مہینے سے تین روزے سینے کے کینہ کو اکثر ختم کر دیتے ہیں۔“ قرہ کہتے ہیں: میں نے اسے کہا: «وَغَرُ الصَّدْرِ» ”سینے کی تپش“، اس نے کہا: «وَحَرُ الصَّدْرِ» ”سینے کا کینہ“۔ قوم نے کہا: کیا تو نے واقعی اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ وہ اپنے صحیفے کی طرف لپکا اور اسے لے کر جلدی سے چلا گیا، پھر کہا: خبردار! میں تم کو خیال کرتا ہوں کہ تم ڈرتے ہو کہ میں نے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھا ہے، اللہ کی قسم! آج کے بعد میں تمہیں حدیث نہیں بیان کروں گا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12749
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»