السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: بيان مصرف خمس الخمس وأنه بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الذي يلي أمر المسلمين يصرفه في مصالحهم باب: خمس (پانچویں حصے) کے پانچویں حصے کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ مسلمانوں کے حکمران کے اختیار میں ہے جو اسے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں خرچ کرے گا
حدیث نمبر: 12747
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ قَدْرَ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ " يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ: مَرْدُودٌ فِي مَصَالِحِكُمْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے خیبر کے دن اونٹ کے پہلو سے «وَبَرَةً» ”رونگٹا“ پکڑا اور فرمایا: ”اے لوگو! میرے لیے اس کے برابر بھی حلال نہیں اس میں سے جو اللہ نے تم پر لوٹایا ہے سوائے خمس کے اور خمس بھی تم پر لوٹا دیا جاتا ہے۔“